عید کا مزہ دوبالا کرنے کیلئے شہریوں نے قیمے کی دکانوں کا رخ کرلیا


( عثمان علیم ) سیخ کباب، گولہ کباب، چپلی کباب ہو یا قیمے والی بریانی، سب کے لیے قیمہ اگر قربانی کے جانور کا ہوتو مزہ دوبالا ہو جاتا ہے، قربانی سے فارغ ہوتے ہی شہریوں نے قیمے کی دکانوں کا رخ کرلیا۔

بڑی عید کے بڑے مزے، عید الاضحیٰ پر جہاں سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے ہیں وہیں قربانی سے فارغ ہونے کے بعد عزیز و اقارب کی دعوتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور مزے مزے کے پکوان بنائے جاتے ہیں، جس سے عید کا مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ ایسے میں شہری جانور کے پائے وغیرہ بنوانے کے ساتھ ساتھ گوشت کا قیمہ بھی کرواتے ہیں۔ گلی محلوں میں قیمہ نکالنے اور سری پائے بھوننے والوں کی دکانیں سج جاتی ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ قیمہ مختلف ڈشز میں استعمال ہوتا ہے اور اگر قربانی کا ہو تو ذائقہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ کوفتے، قیمہ بریانی، سیخ کباب، گولہ کباب اور چپلی کباب سب میں قیمے کا استعمال کیا جاتا ہے۔

دکانداروں کا کہنا تھا کہ رش کے باعث کام اچھا چل رہا ہے، ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ پہلے ہم گوشت کو صاف کریں جبکہ قیمہ بنوانے والے گوشت خود صاف کر کے لائیں۔

شہر میں 20 روپے کلو کےحساب سے گوشت کا قیمہ بنا کر دیا جا رہا ہے، رش کے باعث بکنگ پر قیمہ تیار کیا جا رہا ہے۔