سٹی42: فرانس نے ابھی ٹو سٹیٹ سالیوشن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے قدم آگے بڑھایا نہیں لیکن یروشلم میں نیتن یاہو کی اتحادی حکومت نے پہلے ہی فرانس کو "یہودی ریاست کے خلاف صلیبی جنگ" میں مصروف قرار دے دیا۔
اسرائیل کے اندر متنوع وجوہات کی بنا پر غیر مقبولیت کا شکار نیتن یاہو اتحادی حکومت جوں جوں عوام کے غصہ کا نشانہ بنتی ہے، وہ توں توں فلسطین کے موضوع پر زیادہ انتہا پسندانہ اقدامات کی طرف جاتی ہے۔ اس طرز عمل کا ایک اظہار آج اسرائیل کی وزارت خارجہ کے اس بیان میں ہوا کہ دنیافرانسیسی صدر یہودی ریاست کیخلاف صلیبی جنگ میں مصروف ہیں۔
آج اسرائیل نے فرنچ صدر میکرون پر "یہودی ریاست کے خلاف صلیبی جنگ" جاری رکھنےکا الزام عائد کردیا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے ایکس پر بظاہر بلاضرورت پوسٹ کئے گئے بیان میں کہا گیا کہ فرانسیسی صدر میکرون کی یہودی ریاست کے خلاف صلیبی جنگ جاری ہے، صدر میکرون کو حقائق سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا کہ غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کی ناکہ بندی نہیں ہے اور امداد پہنچانے کے لیے اسرائیل سہولت فراہم کر رہا ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے الزام لگایا کہ حماس پر دباؤ ڈالنےکے بجائے میکرون انہیں فلسطینی ریاست کا انعام دینا چاہتے ہیں اور اسرائیل پر پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
میکرون پر شدید بلنٹ تنقید کا تناظر
فرانس کے غیر مذہبی صدر پر "یہودی ریاست کے خلاف صلیبی جنگ لڑنے" اچانک واقعہ تناظر کے بغیر نہیں۔ فرانس کے صدر کچھ روز بعد سعودی عرب کے وزیر خارجہ کے ساتھ ایک اہم کانفرنس کرنے والے ہیں جس کا مقصد ٹو سٹیٹ سالیوشن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پیش رفت کرنا ہے۔
فرانس کے صدر نے گزشتہ دنوں یہ عندیہ بھی دیا کہ فرانس فلسطین کو ریاست کی ھیثیت سے تسلیم کر سکتا ہے۔
گزشتہ دنوں ہی فرانس، کینیڈا اور انگلینڈ نے مشترکہ بیان دیا تھا جس میں اسرائیل کی حکومت کو غزہ کی ہیومینیٹیرین امداد کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لئے کہا گیا اور ویسٹ بینک مین سیٹلمنٹس کے متعلق پالیسی کو فوراً بدلنے کے لئے کہا گیا، اس مشترکہ بیان مین اسرائیل پر پابندیاں لگانے کی وارننگ دی گئی تھی۔ ایک ہی روز بعد انگلینڈ کے پرائم منسٹر سٹارمر نے اپنی حد تک الٹی میٹم پر عمل کر دیا تھا اور ویسٹ بینک میں اسرائیل کی سیٹمنٹس پالیسی کو لے کر اسرائیل پر کچھ سینکشنز لگا دی تھیں۔ فرانس اور کینیڈا کی طرف سے اس ضمن میں کوئی عملی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی تاہم انگلینڈ کے پرائم منسٹر اس لحاظ سےخوش قسمت ہیں کہ نیتن یاہو کی اتحادی حکومت نے انہیں اب تک "یہودی ریاست کے خلاف صلیبی جنگ لڑنے" کا مجرم نہیں ٹھہرایا۔
عین اس وقت جب کہ مغربی ممالک نیتن یاہو حکومت کی ویسٹ بینک میں موجودہ سیٹلمنٹس کے حوالے سے پرتشدد رویہ پر سنجیدہ سوالات کر رہے ہیں، پالیسی بدلنے کے مطالبے کر رہے ہیں، اسرائیل کی کابینہ نے مزید 22 سیٹمنٹس بنانے کا اعلان کر دیا اور اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے دو قدم مزید آگے بڑھ کر اچانک یہ اعلان کر ڈالاکہ ہم ویسٹ بینک میں یہودی اسرائیلی ریاست قائم کریں گے، صدر میکرون اور ان کے ساتھیوں کے لیے ہمارا واضح پیغام ہےکہ وہ فلسطین کو کاغذ کے ٹکڑے پر تسلیم کریں گے اور ہم یہاں زمین پر اسرائیلی ریاست قائم کریں گے۔
فرانس کے گزشتہ 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے پہلے اور بعد میں آج تک حماس کی ہر قدم پر سخت مخالفت کرنے کا ریکارڈ رکھنے والے صدر میکرون کا جرم یہ بھی ہے کہ انہوں نے کہہ ڈالا کہ اگر ہم غزہ کو مکمل طور پر اسرائیلی رحم وکرم پر چھوڑ دیں تو ہم اپنی ساکھ کھو دیں گے۔ میکرون نے غزن شہریوں کو جبراً بے گھر کرنے کے اسرائیلی منصوبے کی سختی سے مذمت کی اور کہا کہ فلسطینی ریاست کو شرائط کے ساتھ تسلیم کرنا ایک اخلاقی فرض ہے۔