ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسرائیل نے عرب وزرا خارجہ کو فلسطین کا دورہ کرنے سے روک دیا 

Two State Solution, Yitzhak Rabin, Mahmood Abbas, Arab Foreign Ministers, Netanyahu , Palestine
کیپشن: سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود 23 مئی 2025 کو پیرس میں فرانسیسی وزارت خارجہ میں ایک میٹنگ میں شرکت کر رہے ہیں۔ کل اتوار کے روز ان کی قیادت میں مشرق وسطیٰ کے کئی وزیر خارجہ  ویسٹ بینک جا کر فلسطین کے صدر محمود عباس سے ملاقات کرنے والے تھے۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان اچانک صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ 

اسرائیل نے سعودی عرب کی قیادت میں  عرب ممالک کے فارن منسٹرز کے  وفد کو  فلسطین میں شامل دریائے اردن کے مغربی کنارے کا دورہ کرنے سے روکنے کا اعلان کیا ہے اور عرب ممالک کے فارن منسٹرز نے اس پابندی کی مذمت میں  بیان دیا ہے۔ 

اسرائیل نے سعودی عرب کے  وزیر خارجہ  کی قیادت میں  عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایک وفد کو اتوار کو مغربی کنارے کا  غیر معمولی دورہ کرنے سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے، ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے 'ٹائمز آف اسرائیل'  کو اس فیصلہ کی تصدیق کی۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، قطر اور ترکی کے وزرائے خارجہ اتوار کو رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات کرنے کے لئے ویسٹ بینک جانے والے تھے۔

سینئر اسرائیلی اہلکار کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی ایک اجلاس کی میزبانی کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھی جس کا مقصد "فلسطینی ریاست کے قیام کو فروغ دینا تھا۔"

وزیراعظم نیتن یاہو کی اتحادی حکومت اندر سے بہت زیادہ کمزور ہونے کے بعد اچانک "فلسطینی ریاست" کے وجود کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کرنے لگی ہے۔ اسرائیل کے وزیراعظم اضحٓاک رابین کی قیادت میں اسرائیل کی ریاست "ٹو سٹیٹ سالیوشن" کو  تاریخ بدل دینے والے انٹرنیشنل معاہدہ کے تحت باقاعدہ تسلیم کر چکی ہے اور فلسطینی اتھارٹی کا وجود اس ٹو سٹیٹ  سالیوشن کا ہی ٹرانزیشنل حصہ ہے۔

اسرائیل کے پانچویں وزیراعظم اضحاک رابن ایک مدبرسیاست دان، اور  سابق جنرل تھے۔  انہوں نے 1974-1977، اور 1992 سے لے کر 1995 میں قتل  کر دیئے جانے تک دو بار اسرائیل کی قیادت کی ۔  رابن یروشلم میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے بے مثال سٹیٹسمین شپ کو بروئے کار لا کر اسرائیل کو لامتناہی کونفلکٹ کے خاتمہ کے عمل میں ڈالا اور ان کی جدوجہد سے دو ریاستوں کے حل کا معاہدہ ہوا، اس  عظیم کام کی قیمت پرائم منسٹر رابین کو ایک انتہا پسند جنونی کے ہاتھوں قتل ہو کر ادا کرنا پڑی۔

ٹو سٹیٹ سالیوشن کی اسرائیل کے اندر انتہا پسندوں کی طرف سے مخالفت ہمیشہ رہی لیکن ریاست کے لئے ہوئے معاہدہ کو مسترد کرنے کی جرات کسی کو نہیں ہوئی لیکن اب نیتن یاہو اور ان کے اتحادی  انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان اب ٹو سٹیٹ سالیوشن کو یکسر مسترد کر رہے ہیں۔  18  جولائی  2024 کو  پارلیمنٹ کنیست نے ایک قرارداد منظور کی جس میں فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا۔

نیتن یاہو  17 سال سے اقتدار میں ہیں لیکن وہ اس وقت اس قدر کمزور ہیں کہ اپنے انتہا پسند اتحادی ساتھیوں کو  ساتھ رکھنے کے لئے مین سٹریم سے بہت دور جا رہے ہیں جس کا ایک اظہار اپنی ہی عرب ملکوں کے ساتھ نارملائزیشن کی کئی سال کی جدوجہد  کو آنِ واحد میں برباد کر دینے والا حالیہ اقدام ہے جس کا اسرائیل کو عملاً کوئی فائدہ ہونا  بعید از قیاس ہے۔

سعودی عرب اور فرانس اگلے ماہ اقوام متحدہ میں ایک کانفرنس کی میزبانی کر رہے ہیں جس کا مقصد  ٹو سٹیٹ  سالیوشن  (دو ریاستی حل)  کے لئے ڈپلومیسی کو آگے بڑھانا ہے، اور  فرانس اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے اس پلیٹ فارم کو استعمال کرے گا یا نہیں۔

"اسرائیل اپنے اور اس کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے بنائے گئے اقدامات کے ساتھ تعاون نہیں کرے گا،" اسرائیلی اہلکار نے عرب فارن منسٹرز  کو ویسٹ بینک آنے سے روکنے کے فیصلہ کے متعلق  آج میڈیا  کو لیک کی گئی معلومات  شئیر کرتے ہوئے  زور دے کر کہا۔

اسرائیل کی لیڈنگ نیوز آؤٹ لیٹ ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اس اقدام سے اسرائیل کے علاقائی عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا امکان ہے، جو غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے پہلے ہی کافی خراب ہو چکے ہیں۔