ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آئی ایم ایف کا دباؤ: پیٹرول اور سولر پر 18 فیصد جی ایس ٹی کی تجویز

آئی ایم ایف کا دباؤ: پیٹرول اور سولر پر 18 فیصد جی ایس ٹی کی تجویز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے حکومت پاکستان کو آئندہ بجٹ کے لیے سخت مالیاتی اقدامات تجویز کیے ہیں۔ ان مطالبات میں پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹمز پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) عائد کرنے کی سفارش شامل ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کے شعبے میں مزید مہنگائی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی صفر ہے، تاہم آئی ایم ایف نے نہ صرف ایندھن بلکہ سولر صارفین پر بھی ٹیکس لگانے اور نئے گھروں پر دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر زور دیا ہے۔

مزید برآں، ادارے نے حکومت کو آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس ہدف 15 ہزار 600 ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ ہدف سے نمایاں اضافہ ہے۔ رواں مالی سال میں ٹیکس وصولی کا ہدف پہلے 14 ہزار 131 ارب تھا، جسے کم کر کے 13 ہزار 979 ارب کر دیا گیا، لیکن اس کے باوجود 8 ماہ میں 428 ارب روپے کا شارٹ فال سامنے آیا۔

ایف بی آر حکام کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں ٹیکس وصولی میں کمی 600 ارب روپے سے بڑھنے کا امکان ہے۔ مارچ میں اب تک 865 ارب روپے وصول کیے گئے ہیں جبکہ ہدف 1367 ارب تھا۔ حکام نے اس کمی کی وجہ عالمی سطح پر مہنگے تیل، درآمدات میں کمی اور کاروباری سرگرمیوں میں سست روی کو قرار دیا ہے۔

ایف بی آر کو امید ہے کہ سپر ٹیکس اور سرچارج کے ذریعے خسارہ پورا کیا جا سکے گا، جبکہ وزارتِ خزانہ کے مطابق نئے بجٹ سے قبل آئی ایم ایف کے ساتھ مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔