ویب ڈیسک :خیبر پختونخوا میں ثانیہ نشتر کے استعفیٰ کے بعد خالی ہونے والی سینیٹ کی نشست پر ضمنی الیکشن کیلئے تقریباً 2 گھنٹے کی تاخیر سے پولنگ کا آغاز ہوا،سپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم نے پہلا ووٹ کاسٹ کیا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی سینیٹ الیکشن کیلئے خیبر پختونخوا اسمبلی کو پولنگ کا درجہ دیا گیا ہے، پولنگ شام 4 بجے تک جاری رہے گی،پی ٹی آئی کی جانب سے مشال یوسفزئی اور اپوزیشن کی جانب سے مہتاب ظفر امیدوار ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کی صوبیہ شاہد اور دیگر امیدوار انتخابات سے دستبردار ہوگئے ہیں۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایوان کی کل تعداد 145 ہے، جس میں پی ٹی آئی حکومتی اراکین کی تعداد 92 جبکہ اپوزیشن اراکین کی تعداد 53 ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی کے اراکین کی تعداد 18، 18 ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے 10، عوامی نیشنل پارٹی کے 4 اور پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کے اراکین کی تعداد 3 ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق الیکشن خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوں گے، پولنگ سٹیشن کے اندر موبائل فون لے جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ سینیٹ کی یہ نشست پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینیٹر ثانیہ نشتر کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی تھی۔
علاوہ ازیں خیبر پختونخوا میں سینیٹ کے ضمنی انتخاب کے حوالے سے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور اپوزیشن کے درمیان ملاقات بے نتیجہ ختم ہو گئی، ملاقات میں بلا مقابلہ انتخاب پر کوئی اتفاق نہ ہو سکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اب سینیٹ کی خالی نشست پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اپوزیشن کے امیدواروں کے درمیان براہ راست مقابلہ ہو گا، اپوزیشن لیڈر کی جانب سے کوشش کی گئی کہ ن لیگ کی امیدوار صوبیہ شاہد کے حق میں دیگر امیدواروں کو دستبردار کرایا جائے تاہم یہ کوشش تاحال کامیاب نہیں ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق اگر دیگر اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار دستبردار ہو جاتے ہیں تو میدان پی ٹی آئی کی مشال یوسفزئی اور مسلم لیگ (ن) کی صوبیہ شاہد کے درمیان لگے گا، خیبر پختونخوا اسمبلی میں اس وقت پی ٹی آئی کو عددی برتری حاصل ہے۔
خواتین کی مخصوص نشست پر مشعال یوسفزئی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کیوں کہ آزاد امیدوار مہتاب ظفر اب متحدہ اپوزیشن کی امیدوار بن گئی ہیں، دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آزاد امیدوار صائمہ خالد بھی امیدوار ہیں۔
اپوزیشن نے بھی آزاد امیداور مہتاب ظفر کو اپنا امیدوار قرار دے دیا ہے، آج خیبرپختونخوا اسمبلی کے جرگہ ہال میں ہونے والی ووٹنگ کے دوران کسی بھی امیدوار کو جیتینے کے لیے 73 ووٹ درکار ہوں گے جبکہ ایوان میں 28 آزاد امیدوار بھی ہیں۔