سٹی 42: صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری انتقآل کر گئے.
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری طویل علآلت کے بعد اسلام آباد میں وفات پا گئے. بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی عمر 71 برس تھی. بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی نماز جنازہ کل بروز اتوار ادا کی جائے گی.
ان کی نماز جنازہ سہ پہر 3 بجے آبائی گاؤں چیچیاں، میرپور میں ہوگی۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 9 اگست 1955 کو چیچیاں میرپور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم چیچیاں میرپور، میٹرک راولپنڈی، گریجویشن گورڈن کآلج سے حاصل کی ۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے برطانیہ سے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی۔ 1983 میں وطن واپسی کے بعد عملی سیاست کا آغاز کیا۔آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے عہدوں پر فائز رہے۔
9 مرتبہ میرپور سے ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے۔صدر آزاد مسلم کانفرنس، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف آزاد کشمیر رہے۔2021 میں صدر آزاد جموں و کشمیر منتخب ہوئے
مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکی اداروں میں کشمیر کا مقدمہ پیش کیا۔ لندن، نیویارک، برسلز، ڈبلن اور برلن میں تاریخی کشمیر مارچز کی قیادت کی۔ مقبوضہ کشمیر کا تاریخی دورہ، سری نگر کے لآل چوک میں خطاب کیا۔ سید علی گیلانی، یاسین ملک اور دیگر حریت رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری مسئلہ کشمیر کی توانا اور بے باک آواز تھے۔ آزاد کشمیر کے ہر حلقے میں عوامی مقبولیت حاصل تھی
صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا پروفائل
9اگست 1955ء کو چیچیاں میرپور آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے ابائی گاؤں چیچیا ں میر پور میں حاصل کی جبکہ میٹرک کینٹ پبلک سکول راولپنڈی سے کیا جبکہ گریجویشن گورڈن کآلج راولپنڈی سے کیا ۔بعدازاں وہ اعلی تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے جہاں سے انہوں نے معروف قانونی درس کا لنکنن ان سے قانون کی اعلی ڈگری بار ایٹ لا کیا ۔جبکہ 1983ء میں وہ برطانیہ سے واپس وطن واپس آئے اور عملی سیاست کا اغاز کیا۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سابق صدر آزاد کشمیر کے ایچ خورشید کہ ہمراہ آزاد جمو کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر رہے جبکہ 1990ء میں وہ نامزد صدر کہ عہدے کے لیے منتخب ہوئے تاہم عمر میں ایک ماہ کی کمی کے باعث وہ اس وقت صدر منتخب نہ ہو سکے جبکہ بعد ازاں 1996ء میں وہ آزادجموں وکشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوئے ۔اسی طرح 2001 میں وہ آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر فائز رہے ۔جبکہ وہ اپنے آبائی حلقے میرپور سے 9بار ممبر اسمبلی منتخب ہوۓ۔ جبکہ وہ صدرآزاد مسلم کانفرنس ,صدرلیبریشن لیگ آزاد کشمیر, صدرپیپلز پارٹی آزاد کشمیر,صدرپاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے عہدوں پر بھی فائز رہے ۔
وہ2021ء میں آزاد کشمیر کے صدر منتخب ہوئے ۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو جارحانہ اور موثر انداز میں اجاگر کیا۔انہوں نے اقوام متحدہ ،امریکی وزارت خارجہ سمیت مختلف ممالک کی اور پارلیمئنٹس مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک میں کشمیریوں کے مظاہروں قیادت کی جبکہ انہوں نے لندن کے ٹرافلگر اسکویئر ,نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفترکےسامنے ,مسلز میں یورپی یونین اور یورپی پارلیمنٹ کے سامنے ,ڈبلن میں ائرلینڈ کی پارلیمنٹ کے سامنے سمیت میں دیوار برلن پر شاندار ملین مارچز کی قیادت بھی کی جبکہ انہوں نے سفارتی سطح پر اسلام آباد میں تعینات تعینات یورپی اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے بے شمار ملاقاتیں کی اور انہیں مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظآلم پر بارہا بریفنگ بھی دی ۔وہ آزاد کشمیر کے واحد لیڈر تھے جنہیں مقبوضہ کشمیر کے دورے کا شرف بھی حاصل ہوا مقبوضہ کشمیر کے دورے کے دوران انہوں نے سری نگر کے تاریخی لال چوک میں کشمیری عوام سے خطاب بھی کیا اسی طرح دورہ سری نگر کے دوران انہوں نے چیئرمین آل پارٹیز کانفرنس سید علی گیلانی سید شبیر شاہ ,چیئرمین آزاد جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یاسین ملک سمیت متعدد کشمیری لیڈروں سے ملاقاتیں بھی کی ان کا سری نگر کا یہ دورہ خاصی تاریخی اہمیت کا حامل رہا ۔مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ۔وہ آزاد کشمیر کے واحد سیاستدان ہیں جنہیں آزاد کشمیر کے ہر حلقہ میں عوامی مقبولیت اور ووٹ بینک حاصل ہے ۔