( علی ساہی ) تھانہ کلچر کیسے ٹھیک ہوگا جب پولیس ہی ٹھیک نہیں، گزشتہ بارہ ماہ کے دوران لاہور سمیت پنجاب بھر سے مختلف الزامات میں بارہ سو چالیس افسران واہلکار نوکری سے فارغ جبکہ تنتالیس ہزار سات سو اکیالیس افسران واہلکاروں کو معطلی، جرمانے، اظہار ناراضگی، جبری ریٹائرمنٹ اور تنخواہوں میں کٹوتی سمیت دیگر سزائیں دی گئیں۔
پولیس اعداد وشمارکے مطابق پنجاب کی آدھی پولیس فورس کو پچھلے 12 ماہ میں بڑی اور چھوٹی سزائیں دی گئیں۔ 12 ماہ کے دوران 43 ہزار 741 افسر واہلکاروں کو برطرفی سے لیکر جرمانے تک کی سزائیں سنائی گئیں۔ پنجاب بھر کے ریکارڈ میں فیلڈ افسران کرپشن اور غفلت میں پیش پیش رہے، جسکی وجہ سے 1 ہزار 240 افسران اور اہلکاروں کو کرپشن، ڈیوٹی سے غیر حاضری سمیت دیگر الزامات پر نوکری سے فارغ کیا گیا۔
ناقص کارکردگی پر 97 افسران اور اہلکاروں کو جبری ریٹائر، مختلف کیسز میں 6236 افسر وملازمین کی سروس ایک سال یا اس سے زیادہ ضبط کی گئی۔ مختلف الزامات وشکایات ثابت ہونے پر 862 افسران اور اہلکاروں کی رینک میں تنزلی کی گئی۔ 19 ہزار 182 افسران اور اہلکاروں کو اظہارِ ناراضگی اور تنخواہوں میں کٹوتی کی سزادی گئی ہے۔
اسی طرح فرائض میں غفلت پر 10 ہزار 524 اہلکاروں کو جرمانے ہوئے۔ 1888 افسران اور اہلکاروں کو انکریمنٹ اور 490 کی پرموشن روکی گئی۔ اگر بات کی جائے کرپشن کے کیسز میں 827 افسران اور اہلکاروں کو سزائیں دی گئی ہیں۔ ڈیوٹی سےغیر حاضر رہنے پر 20 ہزار 634 افسران اور اہلکاروں کو سزائیں ہوئیں۔
آئی جی پنجاب کے حکم پر افسران اور اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی گئی، سزائیں پانے والوں میں انسپکٹرز سے لیکر کانسٹیبل رینک کے اہلکار شامل ہیں۔ سزا یافتہ افسران واہلکاروں کی اتنی بڑی تعداد تھانہ کلچر اور عوامی خدمت کے دعوے داروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔