ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹیکس نظام میں تبدیلی کے بعد آمدن میں کمی پر سوالات، برآمدی آمدن میں غیر معمولی کمی کا انکشاف

ٹیکس نظام میں تبدیلی کے بعد آمدن میں کمی پر سوالات، برآمدی آمدن میں غیر معمولی کمی کا انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 کلیم اختر:ٹیکس نظام میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد حکومتی آمدن میں کمی پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں,انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 154 میں ترمیم کے بعد برآمدی آمدن میں غیر معمولی کمی سامنے آنے پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے برآمد کنندگان کی سخت جانچ پڑتال کا آغاز کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹیکس رجیم میں تبدیلی کے بعد برآمدی آمدن کو حتمی ٹیکس نظام سے کم از کم ٹیکس رجیم میں منتقل کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد ایکسپورٹرز نے ٹیکس سال 2025 کے دوران قابلِ ٹیکس آمدنی کم ظاہر کی۔ اس صورتحال کے پیش نظر ایف بی آر نے بڑے برآمد کنندگان کے گوشواروں کی تفصیلی جانچ کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

ایف بی آر نے فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت دی ہے کہ وہ گوشواروں میں غیر معمولی پیٹرنز، اعداد و شمار میں عدم مطابقت اور بلاجواز کمی کی نشاندہی کریں۔ حکام کے مطابق بغیر جواز آمدن کم ظاہر کرنے والے برآمد کنندگان کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لارج ٹیکس آفس (ایل ٹی او)، کارپوریٹ ٹیکس آفس (سی ٹی او) اور ریجنل ٹیکس آفسز (آر ٹی اوز) کو ٹاپ ایکسپورٹرز کی فہرستیں تیار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ اس عمل میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد سمیت ملک بھر کے ٹیکس دفاتر شامل ہوں گے۔

ایف بی آر نے ہدایت کی ہے کہ ٹاپ 10، ٹاپ 20 اور ٹاپ 30 برآمد کنندگان کا ڈیٹا الگ الگ مرتب کیا جائے، تاکہ آمدن میں کمی کے اسباب کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔ ڈیٹا جمع کرانے کے لیے ایف بی آر کی جانب سے مخصوص گوگل شیٹ اور ایکسل فارمیٹس بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ٹیکس نظام میں تبدیلی کے بعد برآمدی آمدن میں اچانک کمی حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جبکہ ایف بی آر کی جانب سے شروع کی گئی جانچ پڑتال آئندہ دنوں میں اہم نتائج سامنے لا سکتی ہے۔