ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 عمران سے سوال پوچھنے کی سزا، صحافی اعجاز احمد کے ساتھ بدسلوکی؛ قومی اسمبلی کی قراردادِ مذمت

قومی اسمبلی کے اجلاس کی کوریج کرنے والے صحافیوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا تو قومی اسمبلی کے ارکان نے اعجاز احمد کے ساتھ اڈیالہ جیل میں پیش آئے واقعہ کا انتہائی سنجیدگی سے نوٹس لیا۔ پینتیس سال سے اسلام آباد میں شائستگی کے ساتھ کام کر رہے صحافی کی توہین پر قومی اسمبلی نے متفقہ مذمتی قرارداد منطور کر دی

Ejaz Ahmad, National Assembly, Resolution against PTI's violence, City42, Speaker Ayaz Sadiq, Aleema Khan , Adiala Jail
کیپشن:  ہمیشہ تہذیب کے ساتھ کلام کرنے والے کہنہ مشق صحافی اعجاز احمد نے کچھ روز پہلے  پی ٹی آئی کے کارکنوں کے  تشدد کا نشانہ بننے والے ایک صحافی کو تشدد سے بچانے کی کوشش کی تو علیمہ خان کی موجودگی میں ان کے کارکنوں نے اعجاز احمد کے ساتھ بدتمیزی کی۔ اس واقعہ کے بعد انہیں مزید وربل تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی اور سوشل میڈیا پر  ٹرولنگ کی گئی۔اب انہوں نے اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی کے بانی کے معاملات کی کوریج  کرنےکے لئے موجود ہونے کے دوران عمران خان سے سوال پوچھا تو ایک بار پھر ان کو بدتمیزی، بدتہذیبی اور ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا۔  آج قومی اسمبلی نے سینئیر جرنلسٹ کے ساتھ بدتمیزی پر مبنی نارروا سلوک کے خلاف مذمت کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

روزینہ علی: پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی کے بانی  کی بد تہذیبی اور  بدتمیزی کا بے سبب نشانہ بننے والے سینئیر صحافی اعجاز احمد کے ساتھ یکجہتی کے لئے صحافیوں کے قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کے موقع پر  شرمندہ ہونے کی بجائے الٹا قومی اسمبلی میں غل غپاڑہ کرنا شروع کر دیا۔  قومی اسمبلی نے اعجاز احمد کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کی بدتمیزی کی مذمت میں قرارداد منظور کر لی۔

کیا واقعہ ہوا

 سینئر صحافی اعجاز احمد سے عمران خان کی بدسلوکی پر پارلیمنٹری رپورٹرز نے قومی اسمبلی کے اجلاس کی کوریج کا بائیکاٹ کر دیا اور پریس گیلری سے واک آؤٹ کر گئے۔

اسلام آباد   میں آج  پاکستان کی اخلاق اور تہذیب سے محروم ہوتی جا رہی سیاست اور  ذمہ دارانہ صحافت ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئیں جب صحافیوں کے ساتھ  پہلے بانی کی بہن کے کارکنوں اور پھر خود بانی عمران خان کی بدتمیزی، ناشائستہ زبان اور  بدسلوکی پر ،  پارلیمنٹ میں بڑا ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ صحافی کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات اڈیالہ جیل میں پیش آئے جن پر پوری صحافی برادری سخت رنجیدہ ہے۔

 پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سینئر صحافی اعجاز احمد کے ساتھ غیر شائستہ رویہ اپنانے کے واقعہ کے بعد پاکستان کی پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر اے) نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے  احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا۔

 اس اقدام نے نہ صرف ایوان کے ماحول کو تلخ بنایا بلکہ ملک بھر میں سیاست اور صحافت کے تعلقات پر ایک نئی بحث بھی چھیڑ دی۔

صحافی اعجاز احمد سے عمران خان کی بدسلوکی کا واقعہ کیسے پیش آیا
اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا تو اجلاس کے آغاز پر ہی پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسی ایشن کے اراکین نے ہال سے باہر جانے کا فیصلہ کیا۔ صحافیوں کو شکایت تھی کہ وفاقی دارالھکومت میں35 سال سے شائستگی کے ساتھ کام کر رہے سینئر صحافی اعجاز احمد کو اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان  سے صرف سوال پوچھنے پر نازیبا زبان کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر بھی انہیں سخت ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا۔

اعجاز احمد نے کیا بتایا
خود اعجاز احمد نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ وہ اسپیکر کی اجازت اور سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد اڈیالہ جیل گئے تھے تاکہ عمران خان سے حالات اور ملاقات کے حوالے سے معلومات لے سکیں، مگر سوال پوچھنے پر انہیں گالم گلوچ کا سامنا کرنا پڑا۔

اعجاز احمد کے ساتھ بدسلوکی کی مذمت میں قومی اسمبلی میں تقاریر

مغرب  کی نماز کے وقفے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو : اعجاز جاکھرانی نے  قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کو بتایا کہ سپیکر صاحب آپ کے حکم پر ہم صحافیوں کے پاس گئے۔ اڈیالہ میں جو صحافیوں کے ساتھ معاملہ ہوا اس پر واک آؤٹ کیا گیا ۔

 امین الحق نے بتایا کہ آج قومی اسمبلی میں احتجاج کرنے والے صحافیوں کے دو مطالبات تھے ایک تو یہ کہ پی ٹی آئی کا کوئی ایم این اے ہونا چاہیے تھا۔ دوسرا یہ کہ قومی اسمبلی سے  صحافیوں کےساتھ بدتمیزی کےاس واقعہ کی مذمت کی جائے۔

سوال کرنے پر صحافیوں کے ساتھ ناروا سلوک کرنا اور گالم گلوچ کرنا غلط ہے۔

ہم اسکی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، ایم کیو ایم صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے۔

اعجاز احمد کے ساتھ بدتمیزی کی مذمت میں قومی اسمبلی کی قرارداد

سپیکر ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں سینئیر صحافی اعجاز احمد  کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کی بدسلوکی  کی مذمت کرنے کی قرارداد پیش کرنے کے لیے رولز معطل کر دیئے۔

قومی اسمبلی کی قرارداد مین کہا گیا، "یہ ایوان سینئر صحافی اعجاز احمد کے ساتھ اڈیالہ جیل میں صحافیوں کے ساتھ ملاقات میں ناشائستہ گفتگو اور دھمکیوں کی مذمت کرتا ہے. سینئیر صحافی کے ساتھ نہ صرف بدسلوکی کی گئی بلکہ سوشل میڈیا پہ دھمکیاں بھی دی گئیں."

قرارداد  میں کہا گیا، "یہ ایوان اس معاملہ پہ وزارت داخلہ کو فوری کارروائی کرتے ہوئے صحافیوں کو تحفظ دینے کا بھی مطالبہ کرتا ہے."

پی ٹی آئی ن کے قومی اسمبلی میں موجود  ارکان نے قرارداد کی مخالفت کر دی۔ بیرسٹر گوہر نے کہا،  میڈیا نے عوام کے لیے ہمیشہ آواز اٹھائی، ہم ان کے کردار کو سراہتے ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے  دعویٰ کیا کہ  ہم نہیں جانتے کہ وہاں جیل میں کیا معاملہ ہوا۔

سپیکر نے پی ٹی آئی کے ارکان کی مخالفت کے باوجود اعجاز احمد کے ساتھ بدتمیزی کی مذمت کی قرار داد   ووٹنگ کیلئے پیش کرنے کی اجازت دے دی  دی۔ سنیئر صحافی اعجاز احمد کے ساتھ اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں کی بدتمیزی اور  غیر شائستہ دھمکی آمیز زبان کے استعمال پر مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ 

مذمت کی قرارداد حکومت ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن کی جانب سے پیش کی گئی۔

قرارداد پر جے یو آئی ف سمیت حکمران اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کے دستخط  موجود ہیں۔

Caption اعجاز احمد (درمیان) اور دوسرے سینئیر جرنلسٹ سپیکر ایاز صادق کے آفس میں  اڈیالہ جیل کے باہر پیش آنے والے واقعات

پی ٹی آئی کھل کر دہشتگردوں کی حمایت کرے، بچوں کی تصویروں کے پیچھے نہ چھپے: وزیرقانون اعظم  نذیرتارڑ کا  نکتہِ نظر

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا، میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کی کوشش رہی کہ  تناؤ نہ ہو۔
 اعظم نذیر تارڑ نے کہا، سینئیر صحافی کو انتہائی غیر مہذب اور غیر شائستہ باتیں کہی گئیں ۔ 

اعظم نذیر تارڑ نے پی ٹی آئی کی قیادت کو مخاطب کر کے کہا،  "آپ کھل کر سامنے آئیں. دہشتگردوں کی  سپورٹ میں ہیں تو سامنے آئیں-   معصوم بچوں کی تصاویر کے پیچھے نہ چھپیں."

اعظم نذیر تارڑ نے پی ٹی آئی کے ارکان سے کہا، "ماحول کو خراب نہ کیا کریں .  دہشتگردوں کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے  وزیر قانون نے کہا، " ایک لاکھ شہادتوں کا حساب دینے کی بجائے دفاعی اداروں اور افواج پاکستان کے خلاف بات کریں گے تو یہ ایوان ساتھ نہیں کھڑا ہو گا۔"

سپیکر ایاز صادق نے کہا، ہشتگردوں کی حمایت میں یہاں کسی کو بات نہیں کرنے دوں گاـ
 پی ٹی آئی  کے ارکان  ایوان میں احتجاج کرنے کے لئے فرش پر بیتھ گئے۔پی ٹی آئی کے اتحاد کے لیدر  محمود خان اچکزئی بھی  فرش پر  بیٹھ گئے