عوام کو حق حاکمیت اور حق ملکیت دلائیں گے: بلاول بھٹو

عوام کو حق حاکمیت اور حق ملکیت دلائیں گے: بلاول بھٹو

 (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں حکومت بنا کر یہاں کے عوام کو حق حاکمیت اور حق ملکیت دلائیں گے، عوام کو عمران خان سے بچانا ہے،عمران خان ہرادارے کو اپنی ٹائیگر فورس بنانا چاہتے ہیں، اداروں کو ٹائیگر فورس نہیں بنانے دینگے،عمران خان نے ملک کا جوحال کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے، ملک میں ہر طبقہ احتجاج کررہاہے،  پیپلزپارٹی کامیاب ہوئی تو گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کیلئے فیصلے کریں گے۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے دوران سکردو کے علاقے روندو میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روندو کے عوام اپنی طاقت کو جانو، آپ نے شہید ذوالفقار بھٹو کا ساتھ دیا تھا تو یہاں سے ایف سی آر اور راج گیری نظام کا خاتمہ کیا تھا، جب آپ نے شہید بینظیر بھٹو کا ساتھ دیا تھا تو گلگت بلتستان میں جمہوریت آئی تھی، آپ نے آصف علی زرداری کا ساتھ دیا تو گلگت بلتستان اسمبلی دلوائی، گلگت بلتستان کو پہلا وزیراعظم بھی دلوایا اور عوام کو روزگار ملا ، پیپلزپارٹی کا ساتھ دینا کیونکہ جو خواب ذوالفقار علی بھٹو نے دیکھا تھا اور یہاں کے عوام کے ساتھ جو وعدے بینظیر بھٹو شہید نے کئے تھے اس کو پورا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو حق حاکمیت اور حق ملکیت دلانا ہے، گلگت بلتستان کی آواز کو اسلام آباد تک پہنچانا ہے، آج تک لوگ اسلام آباد میں بیٹھ کر یہاں کے فیصلے کر رہے ہیں، اگر پی پی پی کامیاب ہوئی تو گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کیلئے فیصلے کریں گے، ہم مزدورکو بینظیر غریب کارڈ دیں گے ، عوام کو عمران خان سے بچانا ہے کیونکہ دو سال میں ہمارے پاکستان کو جو حال بنایا ہے وہ سب کے سامنے ہے، مزدور، ڈاکٹر، نرسز، طلبہ یہاں تک کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز بھی احتجاج کررہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان سمیت ہر ادارے سے لوگوں کو بے روزگار کر رہا ہے،  اس تباہی سے گلگت بلتستان کو بچانا ہے، امید ہے 15 نومبر 2020 کو الیکشن کے دن بھی پی پی پی کا ساتھ دیں گے، گلگت بلتستان کے عوام کو صوبہ چاہیے، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی چاہتے ہیں اور اپنے فنڈز میں اضافہ اور حق حکمرانی چاہتے ہیں، میں آپ کے جذبے اور محبت کو کبھی نہیں بھول سکتا، یہ صرف اقتدار اور حکومت بنانے کی لڑائی نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے مستقبل کا سوال ہے، ہم آپ کو حق حاکمیت اور حق حکمرانی دلا کر رہیں گے۔