سٹی42: اسلامک اسٹیٹ گروپ عرف داعش نے شام میں ایک بار پھر جنگ چھیڑ دی ہے۔
سابق صدر بشار الاسد کے حکومت اور ملک چھوڑ دینے کے بعد آج داعش نے شام کی حکومت کی فورسز پر پہلے حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
4 مئی 2015 کو داعش کی ایک ویب سائٹ کے ذریعے جاری کی گئی اس فائل تصویر میں، اسلامک اسٹیٹ کے عسکریت پسند شمال مشرقی شام کے تل ابیض کے راستے ایک قافلے میں گاڑی چلا رہے ہیں۔
اسلامک اسٹیٹ گروپ نے جنوبی شام میں دو حملوں کا دعویٰ کیاہے، جن میں ایک حکومتی فورسز پر بھی شامل ہے جسے حزب اختلاف کے جنگی مانیٹر نے بشار الاسد کے خاتمے کے بعد انتہا پسندوں کی طرف سے شامی فوج پر پہلا حملہ قرار دیا ہے۔
آئی ایس نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ایک حملے میں، "مرتد حکومت کی گاڑی" کو نشانہ بنانے والا بم پھٹ گیا، جس میں سات فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔ اس نے کہا کہ یہ حملہ "گزشتہ جمعرات" یا 22 مئی کو جنوبی صوبے سویدا کے صحرا میں الصفا کے علاقے میں ہوا۔
ایک الگ بیان میں،داعش گروپ نے کہا کہ ایک اور بم حملہ اس ہفتے قریبی علاقے میں ہوا، جس میں سابق اپوزیشن کی فری سیریئن آرمی کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایک جنگجو کو ہلاک اور تین کو زخمی کیا۔
ان دعوؤں پر حکومت کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ فری سیریئن آرمی نے بھی اس دعوے کا کوئی جواب نہیں دیا۔
برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ حکومتی فورسز پر حملے میں ایک شہری ہلاک اور تین فوجی زخمی ہوئے، یہ دسمبر میں اسد خاندان کی حکمرانی کے خاتمے کے بعد شامی افواج کے خلاف آئی ایس کی جانب سے دعویٰ کیا جانے والا پہلا ایسا حملہ ہے۔ داعش بشار الاسد کی حکومت کے دوران ابھری تھی اور شام سے زیادہ عراق مین پھیلی تھی۔ داعش "دولتِ اسلامیہ العراق والشام" کا مخفف ہے۔ شام اور عراق مین داعش کی سنگدلانہ قتل عام پر مبنی سرگرمیوں کو کچلنے کے لئے امریکہ نے عراق مین کارروائی کی اور شام میں اس کی سرگرمیوں کو کچلنے کے لئے امریکہ کے ساتھ شامی حکومت اور روس نے بھی کردار ادا کیا تھا۔ داعش عملاً ختم ہو چکی تھی تاہم اب اس دعوے سے تاثر ملتا ہے کہ یہ گروہ مکمل ختم نہیں ہوا۔