ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فینز اونلی؛ پورنو ریکٹ پکڑا گیا، کال گرلز، پورنو مواد اور کروڑوں روپے کیش برآمد

Pornography racket busted, Husband wife pornography racket, city42, Fans Only website, Russian porno business, Turkish porno mafia, City42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: پولیس نے پورنو ریکارڈنگ اور  پورنو مواد کی   آن لائن لائیو  سٹریمنگ کا  ریکیٹ چلانے والے میاں بیوی کو  گرفتار؛ کر کے ان کے اڈے سے کروڑوں روپے بھی برآمد کر لئے اور کئی لڑکیوں کو لائیو پورنو سٹریمنگ کرنے والی کئی لڑکیوں کو بھی حراست مین لے لیا۔ اس ریکٹ کے متعلق ابتدائی تحقیقات میں  ہوشربا انکشافات ہوئے ہیں۔

پوعنو ریکٹ کے سرغنہ  میاں بیوی کے گھر سے  بندم زمانہ "اونلی فینز " کے لیے عریاں مواد کی ریکارڈنگ کے جدید آلات پکڑے گئے اور وہاں کام میں مصروف  اور 3 کال گرلز بھی ملیں۔

 
 بھارت کے شہر نوئیڈا سے پوری دنیا میں پورنو وڈیوز اور لائیو سٹریمنگ کا کام کرنے والا ایک بڑا آن لائن پورنو گرافی کا ریکیٹ پکڑا گیا ہے جہاں 3 لڑکیاں " اونلی فینز "کے لیے نازیبا  مواد کی ریکارڈنگ کروا رہی تھیں۔

 پورن ریکیٹ چلانے  میں ملوث اجوال کشور اور اس کی بیوی نیلو سری واستو کو حراست میں لے لیا گیا۔ دونوں کے گھر سے 15 کروڑ   66 لاکھ بھارتی روپے بھی برآمد ہوئے جو غیر قانونی طریقے سے منگوائے گئے تھے۔

اس گھر سے "اونلی فینز " جیسے بالغ اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر پائے جانے والے مواد کو نشر کرنے کے لیے ایک پیشہ ور ویب کیم اسٹوڈیو بھی ملا۔

یہ سٹوڈیو ہائی ٹیک نشریاتی سہولیات سے لیس تھا جو بالغوں کے مواد کو آن لائن اسٹریم کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔

چھاپے کے دوران وہاں سے تین خواتین کو بھی حراست میں لیا گیا جو اونلی فینز اسٹریمنگ کے لیے فحش ریکارڈنگ کروا رہی تھیں۔

ذرائع کے مطابق اونلی فینز ماڈلز معاوضے کے عوض صارفین کی خواہش کے مطابق فحش ویڈیوز ریکارڈ کرواتی تھیں۔

اونلی فینز اسٹریمنگ کے لیے ہاف فیس شوز ، فل فیس شوز اور مکمل عریانی کے صارفین سے الگ الگ رقم وصول کی جاتی تھی۔

گرفتار جوڑا قبرص میں قائم ٹیکنیئس لمیٹڈ نامی کمپنی سے وابستہ تھے جو زیمسٹر اور اسٹرپ چیٹ جیسی مشہور پورن ویب سائٹس کو چلانے کے لیے جانا جاتا ہے۔

مزید تفتیش سے پتہ چلا کہ مرکزی ملزم اجوال کشور بھارت منتقل ہونے اور اپنی بیوی کے ساتھ یہ کام شروع کرنے سے قبل روس میں اسی طرح کے ریکیٹ میں ملوث تھا۔

اس جوڑے نے بھاری معاوضوں کے عوض ماڈل بھرتی کرنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بالخصوص فیس بک کا استعمال کیا۔

جس کے لیے جوڑے نے ایک فیس بک صفحہ بھی بنایا تھا  اور اس کے ذریعے خواہش مند خواتین کو آڈیشن کے لیے اپنے فلیٹ بلاتے تھے۔

آڈیشن کامیاب ہونے کے بعد ان خواتین کو تنخواہ 1 سے 2 لاکھ روپے ماہانہ کی پیشکش کی جاتی تھی۔