عثمان خان: وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف سے اقوام متحدہ کے اتحاد برائے تہذیبوں (UNAOC) کے خصوصی ایلچی برائے انسداد اسلاموفوبیا میگوئیل موراتینوس نے ملاقات کی، جس میں اسلاموفوبیا، مذہبی عدم برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے، باہمی تعاون، سماجی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ سردار محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان، UNAOC کے ساتھ مل کر اسلاموفوبیا کے خاتمے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں غیر مسلم شہریوں کے لیے تعلیمی اداروں، سرکاری ملازمتوں اور اسمبلیوں میں نمائندگی کا کوٹہ موجود ہے، جبکہ بین المذاہب ہم آہنگی ونگ کے تحت عبادت گاہوں کی مرمت، تعلیمی وظائف اور اقلیتوں کی فلاح کے مختلف منصوبے جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہر سال 11 اگست کو مینارٹی ڈے منایا جاتا ہے اور تمام مذاہب کے رہنماؤں کی مشاورت سے بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی بھی منظور کی جا چکی ہے۔
سردار محمد یوسف نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا آئین، اسلامی تعلیمات اور قائداعظم کے فرمودات اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔
اس موقع پر میگوئیل موراتینوس نے کہا کہ اقوام متحدہ مذہب اور تہذیب کی بنیاد پر نفرت اور تشدد کے خاتمے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کی مسجد پر حملے کو اسلاموفوبیا کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اقوام متحدہ نے 2019 سے عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔ انہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پاکستان کے اقدامات کو بھی سراہا۔