کورونا سے بچ جانے والوں کو پی ٹی ایس ڈی کا خطرہ

کورونا سے بچ جانے والوں کو پی ٹی ایس ڈی کا خطرہ

 (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کا شکار جو افراد شدید بیماری کی حالت میں ہسپتالوں میں زیرِ علاج تھے، انہیں فوری طور پر پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر  کے لئے معائنہ کر انے کی ضرورت ہے۔

 

میڈیارپورٹس کے مطابق کووڈ ٹروما رسپانس ورکنگ گروپ جس کی سربراہی یونیورسٹی کالج لندن نے کی تھی اور اس میں جنوب مشرقی انگلینڈ کے ماہرین شامل تھے ان کا کہنا تھا کہ ایسے مریض جنہیں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا تھا انہیں زیادہ خطرہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ان افراد کا کم از کم ایک سال تک باقاعدہ چیک اپ ہونا چاہیے، ان میں سے ہزاروں افراد شدید بیمار تھے اس لیے انہیں پی ٹی ایس ڈی کے خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

گروپ کی جانب سے کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ماضی میں متعدی بیماری کے دوران شدید بیماری کا سامنا کرنے والے تقریبا 30 فیصد مریضوں میں پی ٹی ایس ڈی کی علامات پائی گئیں اس کے علاوہ انہیں ڈپریشن اور اضطراب کا بھی سامنا رہا۔ دوسری جانب  کورونا ایڈوائزری گروپ کے پروفیسر محمود شوکت نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ آج کل ٹوٹکے آزما رہے ہیں، ثنامکی کا استعمال دینی فریضہ سمجھ کر کیا گیا، دنیا میں کہیں بھی اس کی افادیت نظر نہیں آئی۔

پروفیسر محمود شوکت نے عوام کو پھلوں کے استعمال کا مشورہ دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہے، ثنامکی مرض کو بڑھا سکتی ہے، دنیا میں کہیں بھی ثنامکی کی افادیت نظر نہیں آئی، بہت سے لوگوں کو ثنا مکی پینے سے ہسپتال جانا پڑا، ان کا مزید کہنا تھا کہ  آپ زیادہ سے زیادہ پھلوں کا استعمال کریں۔

یاد رہے جہ اس سے قبل سنا مکی کے استعمال کی افادیت اور نقصانات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہر غذائیت نیلم اعجاز کا کہنا تھا کہ لوگ سوچے سمجھے بغیر سوشل میڈیا پر ٹوٹکا شیئر کر رہے ہیں کہ سنا مکی سے کورونا وائرس کا علاج کیا جا سکتا ہے