ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کورٹس ڈیجٹلائزیشن کا آغاز؛ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے افتتاح کردیا

کورٹس ڈیجٹلائزیشن کا آغاز؛ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے افتتاح کردیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی اور عدالتی نظام میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے کورٹس ڈیجیٹلائزیشن کے اہم اقدامات کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ سول کورٹس سمیت عدالتی مالیاتی اور انتظامی نظام کو مکمل طور پر جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی بنیاد رکھ دی گئی۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے سول کورٹس اکاؤنٹس مینجمنٹ سسٹم کا افتتاح کیا، جس کے ساتھ ہی ڈیجیٹل ڈپازٹس اینڈ سیکیورٹیز سسٹم اور انوینٹری مینجمنٹ سسٹم کا بھی آغاز کر دیا گیا۔ ان جدید نظاموں کے نفاذ سے عدالتی مالیاتی امور مکمل طور پر ڈیجیٹلائز ہو جائیں گے اور شفافیت کو فروغ ملے گا۔سول کورٹس اکاؤنٹس مینجمنٹ سسٹم کے تحت عدالتی فیسوں، جرمانوں اور دیگر واجبات کی ادائیگی میں فراڈ کے امکانات کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔

 عدالتی واجبات کی ادائیگی اب براہ راست نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے ہو گی جبکہ پی ایس آئی ڈی (PSID) کے تحت چالان فارم 32-A کا اجراء کیا جائے گا۔ خودکار نظام کے نفاذ سے عدالتی مالیاتی معاملات میں انسانی مداخلت اور دھوکہ دہی کے تمام راستے بند ہو جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق تمام جوڈیشل افسران کو سسٹم تک مخصوص رسائی دے دی گئی ہے اور اب تمام عدالتی مالیاتی ادائیگیوں کے آرڈرز آن لائن جاری ہوں گے۔ ڈپازٹس کی فوری تصدیق کو یقینی بنانے کے لیے کیس مینجمنٹ سسٹم کو نیشنل بینک آف پاکستان کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں شیرف پیٹی اکاؤنٹس اور عدالتی جرمانوں کا مکمل ریکارڈ ایک کلک پر دستیاب ہوگا۔مزید بتایا گیا کہ مستقبل میں سول کورٹس اکاؤنٹس مینجمنٹ سسٹم کو اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کے ساتھ لنک کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے، جس سے مالیاتی نگرانی مزید مضبوط ہو گی۔جوڈیشل ڈپازٹس اور سیکیورٹیز کے لیے نیا سافٹ ویئر متعارف کرا دیا گیا ہے، جس کے ذریعے بینکوں میں جمع عدالتی رقوم اور سیکیورٹیز کی جدید انداز میں مانیٹرنگ ممکن ہو گی۔

 نئے سسٹم کے تحت عدالت کی ہر برانچ اپنے اکاؤنٹس کا الگ ریکارڈ برقرار رکھ سکے گی جبکہ اکاؤنٹس میں غلطی کے امکانات کا خاتمہ ہو جائے گا۔ جوڈیشل ڈپازٹس اور سیکیورٹیز سسٹم سے عدالتی نظام میں شفافیت کو نمایاں فروغ ملے گا۔اسی طرح بینکنگ اینڈ فنڈز مینجمنٹ ونگ اب نئے خودکار نظام کے ذریعے اکاؤنٹس کی زیادہ مؤثر نگرانی کر سکے گا، جبکہ انفرادی برانچز کے ریکارڈ کے ساتھ ساتھ تمام ڈپازٹس کا مجموعی ریکارڈ بھی دستیاب ہوگا۔

عدالتی انتظامی امور میں بہتری کے لیے عدالتی اسٹورز اور اسٹاک کی نگرانی کے لیے جدید انوینٹری کنٹرول سافٹ ویئر بھی متعارف کرا دیا گیا ہے۔ اس سسٹم کے تحت سامان کی وصولی سے لے کر دفاتر کو فراہمی تک تمام مراحل ڈیجیٹل ہوں گے۔ سامان کی میعاد ختم ہونے سے قبل خودکار الرٹس جاری کیے جائیں گے، جس سے قیمتی سرکاری سامان کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے گا۔ ناکارہ اور خراب سامان کی واپسی کا مکمل ریکارڈ بھی سسٹم کا حصہ بنا دیا گیا ہے اور اسٹاک مینجمنٹ کے ایس او پیز پر سو فیصد عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

 لاہور ہائیکورٹ کی نیو ججز لائبریری میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں ایڈیشنل رجسٹرار آئی ٹی لاہور ہائیکورٹ جمال احمد نے چیف جسٹس کو جدید سسٹمز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ تقریب میں صدر نیشنل بینک آف پاکستان رحمت علی حسنی، ڈی جی پی آئی ٹی سید قاسم افضال سمیت دیگر اعلیٰ عدالتی و سرکاری افسران نے بھی شرکت کی۔عدالتی و قانونی حلقوں نے چیف جسٹس عالیہ نیلم کے اس اقدام کو عدالتی اصلاحات کی جانب ایک انقلابی قدم قرار دیا ہے، جس سے نہ صرف عدالتی نظام میں شفافیت بڑھے گی بلکہ سائلین کو بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔