ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

حکومت کا الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس لگانے پر غور

حکومت کا الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس لگانے پر غور
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:  حکومت نے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے بھاری درآمدی بل میں کمی کے لیے درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

 یہ اعلان سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت سینیٹر خالدہ اطیب نے کی اور اجلاس میں سینیٹر دانش کمار، سید مسرور احسن کے علاوہ وزارت صنعت و پیداوار اور ایف بی آر کے حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ مقامی طور پر تیار کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس کم یا صفر رکھنے کی تجویز ہے۔ ساتھ ہی، پاکستان میں تیار ہونے والے ای وی پرزے کی درآمد پر اضافی ڈیوٹیز عائد کر دی گئی ہیں تاکہ مقامی صنعت کو فروغ مل سکے۔

وزارت صنعت و پیداوار نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں پر رجسٹریشن فیس وصول نہ کی جائے، ملک بھر میں یکساں نمبر پلیٹس جاری کی جائیں اور ای وی گاڑیوں سے کم ٹول ٹیکس لیا جائے۔

اجلاس میں ملک میں الیکٹرک گاڑیوں، خاص طور پر موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی مینوفیکچرنگ سے متعلق موجودہ پالیسی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے 17 اور دو پہیوں والی گاڑیوں کے لیے 77 مینوفیکچرنگ لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔

حکومت کا ہدف ہے کہ سال 2030 تک ملک میں گاڑیوں کا 30 فیصد حصہ الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل کیا جائے اور 2030 تک 22 لاکھ گاڑیاں حکومتی سبسڈی کے ذریعے عوام کو فراہم کی جائیں۔ اس وقت پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ گاڑیاں اور 2 کروڑ سے زائد موٹر سائیکلیں موجود ہیں، جبکہ رواں سال عوام کو 1 لاکھ 16 ہزار موٹر سائیکلیں اور 3 ہزار 170 رکشے فراہم کیے جائیں گے۔