ویب ڈیسک: بحرین کی حکومت نے کمپنیوں، فیکٹریوں اور گاڑیوں کے ایندھن کی قیمتوں میں آئندہ تبدیلیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ فیصلے 2015 میں کیے گئے سابقہ فیصلوں کے ازسرِ نو جائزے اور مقامی و عالمی منڈی کی صورتحال کے تجزیے کے بعد کیے گئے ہیں، تاکہ قیمتوں کو توانائی کے اصل استعمال اور لاگت کے قریب لایا جا سکے۔
اعلامیے کے مطابق کمپنیوں اور فیکٹریوں کے لیے قدرتی گیس کی قیمت میں مرحلہ وار اضافہ کیا جائے گا، جس کا اطلاق جنوری 2026 سے ہوگا۔ نئی پالیسی کے تحت اگلے چار سال تک ہر سال 50 سینٹ کا اضافہ کیا جائے گا۔ حکومت کا مقصد مقامی اور عالمی قیمتوں کے فرق کو کم کرنا، توانائی کے مؤثر استعمال کی حوصلہ افزائی اور صنعتی اداروں کو قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کرنا ہے۔
دوسری جانب حکومت نے گاڑیوں کے ایندھن کی قیمتوں کے تعین کے لیے سرکاری اداروں اور کمپنیوں پر مشتمل نئی کمیٹی قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جو ماہانہ بنیادوں پر مقامی ایندھن کی قیمتیں طے کرے گی۔ اس اقدام کا مقصد عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی عکاسی کے ساتھ معاشی کارکردگی اور مالی پائیداری کو برقرار رکھنا ہے۔
نئے نظام کے تحت سپر (98 آکٹین)، پریمیئم (95 آکٹین)، ریگولر (91 آکٹین) اور ڈیزل کے نرخ طے کیے جائیں گے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ بحرینی ماہی گیروں کے لیے ڈیزل پر سبسڈی برقرار رکھی جائے گی۔ ایندھن کی قیمتوں سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کے بعد جلد نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔