سٹی 42: جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والی اہم سیاسی شخصیات کے وفود نے صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان سے ملاقات کی، جس میں نئے صوبوں کی تشکیل سمیت ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وفود نے نئے صوبوں کے مطالبے پر آواز اٹھانے اور مسلسل ساتھ دینے پر عبدالعلیم خان کو خراج تحسین پیش کیا، جبکہ انہیں ملتان کے دورے کی دعوت بھی دی گئی اور والہانہ استقبال کی یقین دہانی کرائی۔
عبدالعلیم خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کیلئے رابطہ مہم تیز کی جائے گی اور ہم خیال لوگوں سے ملاقاتیں کی جائیں گی۔ بہاولپور اور ملتان کے بعد ہزارہ کا بھی دورہ کیا جائے گا۔صدر آئی پی پی کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر ہم آہنگی اور رائے عامہ پہلے ہی ہموار ہوچکی ہے، اب "نئے صوبے، نیا نظام" کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس بنائے بغیر نظام کی خامیاں دور نہیں ہوسکتیں، لوگوں کے مسائل حل کرنے ہیں تو نئے صوبے ہر صورت بنانا ہوں گے۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ ماضی میں کئی رہنماؤں نے جنوبی پنجاب صوبے کا صرف نعرہ لگایا لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کیا، تاہم انہوں نے ملکی مفاد میں ایمانداری سے نئے صوبوں کا بیڑہ اٹھایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کی تشکیل پر اگر کسی کو تکلیف ہے تو صرف "چوہدراہٹ" کی ہے، جبکہ الیکشن سے پہلے نئے صوبوں کی باتیں کرنے والے ساڑھے چار سال تک اس کا ذکر بھی نہیں کرتے۔
عبدالعلیم خان نے جلد ملتان اور بہاولپور کا دورہ کرنے اور جنوبی پنجاب کیلئے ملتان میں استحکام پاکستان پارٹی کا مرکزی دفتر قائم کرکے سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔
ملاقات کرنے والے وفود نے گلگت بلتستان میں حکومت سازی پر عبدالعلیم خان کو مبارکباد دی اور نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے ان کے دو ٹوک مؤقف کی حمایت کا اظہار کیا۔
عبدالعلیم خان نے پمز سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے سبق ملتا ہے کہ موجودہ نظام ہرگز درست نہیں، تبدیلی کیلئے جب تک خود کو تیار نہیں کریں گے حالات نہیں بدلیں گے۔
ملاقات میں استحکام پاکستان پارٹی کے سیکرٹری جنرل میاں خالد محمود اور صوبائی صدر رانا نذیر احمد خان سمیت دیگر رہنما بھی شریک تھے۔