ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان پر الزام لگاو کریڈیٹ لو اور الیکشن جیتو،  یہ ہے انکا مقصد ؛ ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان پر الزام لگاو کریڈیٹ لو اور الیکشن جیتو،  یہ ہے انکا مقصد ؛ ڈی جی آئی ایس پی آر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی اقدامات نے پہلگام واقعے سے متعلق صورتحال کو مشکوک کردیا ہے، واقعے کے صرف دس منٹ بعد آیف آئی آر درج ہوئی، پہلگام واقعے کے فوری بعد بغیر ثبوت پاکستان پر الزامات عائد کردیئے گئے، تھانہ 30منٹ دور واقع ہے لیکن مقدمہ 10 منٹ میں ہی درج کر لیا گیا، بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے فوراً پاکستان پر الزام لگا دئیے۔ 

وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بتایا کہ کیسے ممکن ہے حملہ کے 10 منٹ کے اندر تحقیقات کرکے ایف آئی آر بھی درج کرادی گئی، ایف آئی آر میں لکھا گیا کہ پہلگام واقعہ کے ہینڈلرز سرحد پار تھے، ایف آئی آر میں لکھا گیا کہ لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی، بھارت بیانیہ بناتا رہا کہ لوگوں کو مذہب پوچھ کر نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام میں ہونے والا واقعہ ایل او سی سے 230 کلو میٹر دور ہے، پہلگام میں سیاح کی ویڈیو میں لوگوں کو بھاگتے دیکھا جاسکتا ہے، پہلگام واقعہ میں ایک مسلمان کا بھی قتل کیاگیا ۔ 

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ واقعے کے فوری بعد ایف آئی آر کے اندراج اور مندر جات نے سوال پیدا کردیئے، پہلگام واقعے کو فوری طور پر مسلمانوں سے جوڑ دیا گیا ، بھارتی میڈیا نے فوری طور پر پاکستان پر الزام عائد کردیا ،بھارتی ایجنسیوں سے جڑے سوشل میڈیا ہینڈلز پر دوپہر3:05 پر خبر دی گئی،بھارتی نیوز چینلز نے سہ پہر 3:30 پر پہلگام واقعہ کی خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اسلامی دہشت گردوں کا کوئی وجود نہیں۔  

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے بیانیہ بنایا گیا کہ یہ کارروائی مذہب کی بنیاد پر کی گئی ہے ، وزیراعظم نے بھی بھارتی بیانیہ پر سوال اٹھایا ہے ، پہلگام واقعے پر استعمال ہونے والے سوشل میڈیا اکاونٹس جعفر ایکسپریس حملے میں بھی استعمال ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے بھی بھارتی الزام تراشی کا بھانڈا پھوڑ دیا، بھارت میں سیاسی مفادات کیلئے دہشت گردی کرائی جاتی ہے، پہلگام واقعہ کو سندھ طاس معاہدے کی معطلی کیلئے استعمال کیا گیا ۔ 

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، دہشت گردی کے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بھارت کا وطیرہ ہے، بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کو دہشت گرد قرار دے کر جعلی مقابلوں میں نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جعفرایکسپریس حملے پر کالعدم بی ایل اے کا ترجمان بھارتی نیوز چینلز پر بیٹھا رہا، بھارتی چینلز نے جعفر ایکسپریس کے قریب بم دھماکے کی دہشت گردوں کی بنائی ویڈیو چلائی، بھارتی چینلز نے جعفر ایکسپریس کے قریب دھماکے کی جو ویڈیو چلائی وہ کہیں اور نہیں چلی تھی، بھارت ایک دہشت گرد ریاست ہے، پہلگام واقعہ کے بعد بھارت کی پراکسیز کو پاکستان میں دہشت گردی کے ٹاسک دئیے گئے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ بھارت کی سرحد پار دہشت گردی کا ثبوت امریکا اور کینیڈا تک نے دیا، پہلگام واقعہ پر بھارت کے اندر سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، چھٹی سنگھ پورا اور پلوامہ واقعات کو بھی بھارت نے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان اور خفیہ ایجنسیاں تمام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی کاررائیوں کا بھارت اہم  سپانسر ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان قوم اور اداروں کا عزم غیر متزلزل ہے۔ 

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی حکومت الیکشن جیتنے کے لیے پاکستان پر الزام لگاتی ہے ، 25 برسوں سے بھارت دہشت گردی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہے ، پاکستان پر الزام لگاو کریڈیٹ لو اور الیکشن جیتو،  یہ ہے انکا مقصد ۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے پر سوال اٹھانے والوں کو بھارتی حکومت کی انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے ، بھارت میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی وجہ اندرونی عوامل ہیں ، بھارت اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے الزام تراشی کا سہارا لیتا ہے، پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے ۔ 

 ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ہم نے جوابی کارروائی کے تمام اقدامات مکمل کرلیے ہیں، قوم متحد ہے ، قومی سلامتی کا اعلامیہ آچکا ہے ، تمام جماعتوں کا عزم ہے کہ کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہر محاذ پر کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیےپوری طرح تیار ہے۔ بھارت کو ہر ڈومین میں جواب دینے کیلئے تیاری مکمل ہے، پاک فوج کا بھارت کو جواب فیصلہ کن ہوگا، پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان میں ریاستی دہشت گردی کروا رہا ہے، بلوچستان میں دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونےکے ثبوت ہیں، پہلگام واقعےکی آزادانہ اور شفاف انکوائری کرانےکی ضرورت ہے، بھارت نے پہلگام واقعے سے پہلے اپنی پراکسی کو پاکستان میں ہرجگہ دہشت گردی کا کہا، ہمارے پاس بھارت کے دہشت گردی کے پیغامات کی انٹیلی جنس معلومات ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارت کی جیلوں میں سیکڑوں پاکستانی غیرقانونی قید ہیں، بھارت ان قید پاکستانیوں کو جعلی مقابلوں میں استعمال کر رہا ہے، اوڑی میں محمد فاروق کو جعلی مقابلے میں شہید کردیا گیا، بھارتی فوج نے اس کو درانداز کہا، درحقیقت  وہ معصوم شہری تھا، بھارت بے گناہ لوگوں کو درانداز کا الزام لگا کر مار رہا ہے، بھارت خود ایک دہشت گرد ریاست ہے، پاکستانی اور کشمیری شہریوں کو بھارت کی جیلوں میں رکھا ہوا ہے، بھارت ان قیدیوں پر تشدد کرتا ہے اور ان کے بیان دلواتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو بھارت کی پاکستان میں ریاستی دہشت گردی کو دیکھنا چاہیے، جنوری2024 سے اب تک 3700 دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں، دہشت گردی کے ان واقعات میں 3896 افراد جاں بحق ہوئے، پاکستان دہشت گردی کےخلاف آخری مضبوط دیوار ہے، جنوری 2024 سےاب تک 1314 افسران و اہلکار شہیدہوئے،2582 افسران و اہلکار زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوری 2024 سے اب تک77 ہزار 816 آپریشنز کیےگئے، ان آپریشنز میں 1666 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، ان دہشت گردوں میں 83 ہائی ویلیو ٹارگٹ تھے، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والےادارے روزانہ 190 سے زائد آپریشنز کر رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ابھی ہم 70سال سےکشمیر میں جو ہو رہا ہے اس پر بات نہیں کرتے، پہلگام واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جو رہا ہے اس پر بات کریں گے، پہلگام واقعےکے بعد بھارت نے 15کشمیریوں کےگھروں کو دھماکے سے اڑایا، بھارت کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف بیانیہ بنایا گیا، بھارتی بیانیے میں کہا گیا کہ دہشت گرد مسلمان تھے، دہشت گردوں کو ٹھہرانے والے مسلمان تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف یہ بیانیہ مخصوص مقاصد کے لیے بنایا گیا، بھارت حقیقت کا سامنا نہیں کرنا چاہتا، بھارت اپنے اندرونی مسائل کو بیرونی مسائل بنا رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر  نے واضح کیا کہ ہم نے جوابی کارروائی کے تمام اقدامات مکمل کرلیے ہیں،  پاکستانی عوام اپنی خودمختاری اور سالمیت کا ہرقیمت پر دفاع کرے گی،قوم متحد ہے،قومی سلامتی کونسل کا اعلامیہ آچکا ہے، تمام سیاسی جماعتوں کا واضح عزم  ہےکہ کسی کی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیں گے، پاک فوج پوری طرح ہر محاذ پر کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے، بھارت کی حکمت عملی ہوسکتی ہے کہ وہ ہمیں مشرقی بارڈر پر مصروف رکھے، ہم بھارت کی ہر شعبے میں نگرانی کر رہے ہیں، ادارے ہمہ وقت اپنی تیاری کے ساتھ موجود ہیں، فوجی تصادم کا راستہ بھارت نے چنا تو یہ ان کی چوائس ہے، آگے یہ معاملہ کدھر جاتا ہے تو یہ پھر ہماری چوائس ہے۔