ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  پولٹری مافیا کو پانچ سال پہلے کے جرائم پر   پندرہ کروڑ روپے جرمانہ ہو گیا

سی سی پی نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ حالیہ شکایات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق ہیچریز ایک بار پھر ملی بھگت میں ملوث ہو رہی ہیں۔ دن بھر کے چوزوں کی قیمت حالیہ دنوں میں بڑھ کر 230 روپے فی چوزہ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ منصفانہ مارکیٹ ریٹ تقریباً 78 روپے فی چوزہ ہونا چاہیے۔

  پولٹری مافیا کو پانچ سال پہلے کے جرائم پر   پندرہ کروڑ روپے جرمانہ ہو گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  پولٹری مافیا نے پانچ سال پہلے ایک دن کے برائلر چوزے کی قیمت مل جل کر  کارٹیلنگ کے ذریعہ بڑھائی، پاکستان کے کمپیٹیشن کمیشن نے  گیم چینجر فیصلہ میں  پولٹری ہیچریوں کو ملی بھگت سے ایک دن کے چوزے کی قیمت  چار گنا بڑھانے کا مجرم قرار دے کر انہیں  15 کروڑ روپے جرمانہ کر دیا۔

کمپٹیشن کمیشن نے پانچ سال پہلے  چوزوں کی قیمتوں کا تقرر  کھلی منڈی کے مقابلہ کے نظام کی بجائے گٹھ جوڑ  سے کرنے کا الزام ثابت ہو جانے پر 8بڑی پولٹری ہیچریوں کوکارٹل بنانے  کا مجرم ٹھہرایا ہے اور ان کو 15 کروڑ روپے جرمانہ کر دیا ہے۔  کمپٹیشن کمیشن نے کہا ڈے اولڈ چوزے کی قیمت میں 346 فیصد تک اضافہ کیا گیا،چوزے کی قیمت میں مصنوعی اضافے سے چکن کی قیمت میں اضافہ ہوا۔

مارچ 2020 سے اپریل 2021 کے درمیان ایک دن کے چوزے کی قیمت میں 346 فیصد اضافہ ہوا جو 17.92 روپے سے بڑھ کر 79.92 روپے فی چوزہ ہو گئی، جس نے برائلر گوشت کی قیمتوں میں مہنگائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔

کمپٹیشن کمیشن نے پولٹری مافیا کے خلاف پبلک کی شکایات کی سماعت کئی سال  تک کی اور ان شواہد کی مکمل چھان بین کی کہ  ہیچریز  کے مالکان  آپس میں ملی بھگت کر کے واٹس ایپ گروپ کے ذریعے قیمتوں کو مینیپولیٹ کر رہے تھے۔ انہوں نے ملی بھگت کر کے قیمتیں کئی گنا بڑھائیں۔ 

پولٹری مالکوں کے وٹس ایپ گروپ میں ملی بھگت سے  روزانہ قیمتیں طے کی جاتیں تھیں۔"چِک ریٹ اناؤنسمنٹ"' گروپ میں قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے روزانہ قیمتیں فکس کی جاتی ہیں ۔

  بِگ برڈ کا مارکیٹنگ مینجر ڈاکٹر شاہد نئی قیمتیں جاری کرتا رہا۔

 کمپیٹیشن کمیشن نے قرار دیا کہ واٹس ایپ اور ٹیکسٹ میسجر کے ذریعے 198 مرتبہ (غیر قانونی مینی پولیٹنگ کرتے ہوئے)  قیمتیں مقرر کی گئیں،108 مرتبہ ٹیکسٹ میسج سے اور 87 مرتبہ واٹس ایپ پر (مینیپولیٹڈ)  قیمتیں شیئر ہوئیں۔

کمپی ٹیشن کمیشن نے قرار دیا کہ پولٹری ایسوسی ایشن کے سینیئر عہدیدار قیمتوں ملی بھگت میں شامل رہے۔

اس کارٹیل نے لاہور   پنجاب کے دوسرے شہروإ، ملتان اور کراچی میں یومیہ نرخ مل ملا کر مقرر کئے۔ 

ایک دن کے  چوزے کی قیمت 17.92 روپے سے بڑھا کر 79.92 روپے تک  پہنچائی،صادق پولٹری اور اسلام آباد فیڈز نے کارروائی پر حکم امتناع لئے رکھا۔

کمپٹیشن کمیشن نے پولٹری مافیا کا حکم امتناعی خاارج ہونے کے بعد اب  اپنے  شوکاز  نوٹس کے تحت قانونی کارروائی مکمل کرتے ہوئے  کارٹیلنگ کر کے عوام کو لوٹنے والے پولٹری گروہ پر جرمانہ عائد کر دیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے کمپٹیشن کمیشن کا شوکاز نوٹس پر کارروائی کا اختیار برقرار رکھا ہے۔

مسابقتی کمیشن کے مطابق مسابقتی ایکٹ 2010 کی شق 4 قیمتیں طے کرنے، رسد کو کنٹرول کرنے یا پیداوار کو محدود کرنے کے لیے ملی بھگت پر مبنی معاہدوں پر پابندی عائد کرتی ہے۔

ایسی سرگرمیاں مارکیٹ میں مسابقت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ تجارتی ایسوسی ایشنز کا مقصد اپنے شعبے کی ترقی میں مدد دینا ہوتا ہے، نہ کہ قیمتوں سے متعلق حساس معلومات کا تبادلہ یا کارٹل سازی کو فروغ دینا۔ قیمتیں طے کرنے کا عمل مارکیٹ میں سنگین بگاڑ اور صارفین کے استحصال کا باعث بنتا ہے۔ قیمتوں کا تعین صرف طلب اور رسد کی آزادانہ قوتوں کے ذریعے ہونا چاہیے۔

ملی بھگت سے من مانی قیمتیں وصول کرنا اب بھی جاری

سی سی پی نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ حالیہ شکایات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق ہیچریز ایک بار پھر ملی بھگت میں ملوث ہو رہی ہیں۔ دن بھر کے چوزوں کی قیمت حالیہ دنوں میں بڑھ کر 230 روپے فی چوزہ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ منصفانہ مارکیٹ ریٹ تقریباً 78 روپے فی چوزہ ہونا چاہیے۔

اس فیصلے کا امپیکٹ

اس فیصلے کے امپیکٹ کے لئے مفاد عامہ کے لئے آواز اٹھانے والوں کو مزید سٹرگل کرنا پڑے گی۔ گزشتہ دنوں ( رمضان کے دوران) پنجاب کی ھکومت نے چکن  کی قیمت کو کنترول کرنے کی کوشش کی لیکن مافیا نے اسے ناکام بنا دیا۔ اب صوبائی ھکومت قیمت مقرر کرنے سے ہی تائب ہو گئی ہے۔ کمپی ٹیشن کمیشن کا یہ فیسلہ  تقاضا کرتا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ پولٹری مافیا کے بڑے قیمتوں پر اثر انداز نہ ہوں بلکہ مارکیٹ کے طریقہ کار کے مطابق ڈیمانڈ اور سپلائی کا میکنزم قیمتیں طے کروائے جس میں تمام  پولٹری پروڈیوسرز پر کوئی دباؤ نہ ہو۔ 

یہ فیصلہ حکومت کو بھی موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ مفادِ عامہ کے مقصد کو لے کر قیمتوں کو مانیٹر کرنے کا اپنا اختیار بحال کرے اور پولٹری اندسٹری کی اندھا دھند منافع خوری کو لگام دے۔