ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

محسن نقوی کی تہران میں صدر میزشکیان اور  طالبان کے وزیر سے ملاقاتیں

 Mohsin Naqvi Tehran visit, City42,, OIC Minister's meeting
کیپشن: محسن نقوی کی تہران میں او آئی سی اجلاس کے موقع پر وہاں آئے ہوئے افغان طالبان کے وزیر داخلہ سے اتفاقیہ ملاقات  ہوئی۔  مھسن نقوی نے آج ایران کے صدر مسعود پیزشکیان سے بھی ملاقات کی اور دیگر مسلم ممالک کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  تہران میں او آئی سی وزرا داخلہ اجلاس کے موقع پر پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کی افغان طالبان ریجیم کے نائب وزیر داخلہ سے ان شیڈولڈ ملاقات ہوئی ہے۔  محسن نقوی نے اختلافات کو مذاکرات سے  حل کرنے کے متعلق بات کی۔

محسن نقوی کی افغان نائب وزیر داخلہ سے ملاقات میں گفتگو کے متعلق ابتدائی اطلاعات یہ ملی ہیں کہ اتفاقاً ہونے والی اس ملاقات کے متعلق  محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ہم برادر ملکوں کی طرح  اختلافات کو  مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے۔
 فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی تہران میں  افغان نائب  وزیر داخلہ ابراہیم صدر سے ملاقات  اقتصادی تعاون تنظیم ( ای سی او) کے وزرائے داخلہ اجلاس کے موقع پر  ہوئی۔

 اس موقع  پر ایرانی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اختلافات تو گھروں میں بھی ہوتے ہیں ، ہم برادر ملکوں کی طرح  انہیں مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے۔

محسن نقوی کی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات

اس سے قبل محسن نقوی نے ایرانی صدر  مسعود پزشکیان سے ملاقات کی ۔ ایرانی صدر نے  ملاقات میں خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور کسی بھی تنازع سے بچنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا  کہ  ایران پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہمیں کشیدگی کو کم کرنے اور کسی بھی تنازع سے بچنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے کیونکہ یہ پیغمبر اسلام ﷺ کا واضح حکم ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ضرورت  اس بات کی ہےکہ مسلم ممالک اپنے اتحاد  اور  بھائی چارے کو برقرار  رکھتے ہوئے مشترکہ دشمنوں کے خلاف کھڑے ہوں۔

اس موقع پر محسن نقوی نے  اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں ایران کے کردار کا خیرمقدم  کیا اور کہا کہ  افغان حکومت کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری ہیں اور ہم مذاکرات کے ذریعے اختلافات کے پرامن حل پر زور دیتے ہیں، ہمیں خطے کے ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔