عبدالقدوس بزنجو دوسری مرتبہ وزیراعلیٰ بلوچستان بن گئے

CM Baluchistan
Mir Abdul Quddus Bizenjo

 ویب ڈیسک: عبدالقدوس بزنجو  نے دوسری مرتبہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کا حلف اٹھالیا۔ گورنر بلوچستان سید ظہورآغا نے قدوس بزنجو سے حلف لیا۔

  ڈپٹی اسپیکرسرداربابر موسیٰ خیل کی زیرصدارت بلوچستان اسمبلی کا اجلاس میں '' باپ ''(بلوچستان عوامی پارٹی) کے امیدوار کے مقابلے میں کسی نے کاغذات جمع نہیں کرائے جبکہ عبدالقدوس بزنجو کو 39 ووٹ ملے، انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان کا حلف اٹھایا۔ گورنر بلوچستان سید ظہورآغا قدوس بزنجو نے وزارت اعلیٰ کا حلف لیا۔حلف برداری کی تقریب میں اراکین اسمبلی، سیاسی جماعتوں کے رہنما اور سول و ملڑی حکام شرکت کی۔

2018 کے عام انتخابات میں عبدالقدوس بزنجو آواران سے بلوچستان عوامی پارٹی کی ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔ انہیں سپیکربلوچستان اسمبلی کے عہدے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔  '' باپ ''(بلوچستان عوامی پارٹی ) کے رہنما جام کمال نے اپنی ہی جماعت کے باغی اراکین کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پر اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری سے ایک روز قبل ہی وزارت اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد بی اے پی نے نئے وزیراعلیٰ کے لیے عبدالقدوس بزنجو کو نامزد کیا تھا۔

یکم جنوری 1974 کو  ضلع آواران کی تحصیل جھاؤ کے گاؤں شندی میں پیداہونے والے قدوس بزنجو کی شہرت یہ ہے کہ وہ مشکل فیصلے کرنے سے گھبراتے اورجھجھکتے نہیں۔ اس سے قبل بھی 13 جنوری 2018 سے سات جون 2018 تک بلوچستان کے 16 ویں وزیراعلیٰ  کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بننے کے علاوہ صوبائی وزیر بھی رہے ہیں۔ انہوں نے 2013 کے عام انتخابات میں سب سے کم ووٹ 544 لے کر بھی کامیابی حاصل کی تھی۔

 گہرے اور سفید رنگ پسند کرنے والے قدوس بزنجو زندگی میں ہمیشہ مشکل فیصلے کرتے رہے ہیں۔ ان کی شہرت یہ ہے کہ'' تھنک بگ'' ۔کھیلوں میں بینڈ منٹن، ٹیبل ٹینس پسند ہے۔ کبھی کبھی کرکٹ بھی کھیل لیتے ہیں نمل یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ  قدوس بزنجواردو، انگریزی اور بلوچی زبان میں روانی سے بات کرسکتے ہیں۔