افغانستان سے آخری یہودی خاندان کی ہجرت

Jewish Family Leave Afghanistan
Toba Moradi

ویب ڈیسک: افغانستان سے آخری یہودی خاندان کی 80 سالہ خاتون سربراہ طوبی مرادی بھی اپنے 6 رشتہ داروں کے ہمراہ کابل چھوڑ گئیں۔

طوبی مراد کابل میں پیداہوئیں اور پلیں بڑھیں۔ تاہم طالبان حکومت کے آنے کے بعد انہوں نے اب افغانستان چھوڑ کر کینیڈا میں آباد ہونے کا فیصلہ کیا ہے جہاں ان کے چاربچے رہائش پذیر ہیں۔ ان کے بچوں کو کینیڈا منتقل ہونے کے لئے اسرائیلی صدر کی قائم ایک این جی او نے مدد فراہم کی۔ طوبی کینیڈا میں نئی زندگی کا آغاز کرنے سے قبل کچھ عرصہ البانیہ میں اپنے رشتہ داروں کے پاس گذاریں گی۔

طوبی کے بہن بھائی ساٹھ  کے عشرے میں والدین کے ہمراہ اسرائیل منتقل ہوگئے تھے، تاہم طوبی کا ان سے کوئی رابطہ نہیں۔ طوبی مراد کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مادروطن کو کبھی نہیں بھول سکتیں کابل صرف اپنے بچوں کی بہتری کے لئے چھوڑا۔

یاد رہے اس سے قبل زیبیولون سیمنتوف  افغانستان چھوڑ کر ترکی منتقل ہوچکے ہیں اور انہوں نے بھی خود کو افغانستان کا آخری یہودی قرار دیا۔ زیبیولون سیمنتوف طوبی مراد کے فرسٹ کزن ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان میں یہودی ڈھائی ہزار سال سے زائد عرصے تک رہے۔ ان میں سے ہزاروں ہرات میں رہتے تھے، جہاں اب تک چار سیناگاگ موجود ہیں۔