ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جسٹس  لاہور ہائیکورٹ جواد حسن کا   پنجاب جوڈیشل  افسران سے خطاب

جسٹس  لاہور ہائیکورٹ جواد حسن کا   پنجاب جوڈیشل  افسران سے خطاب
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں ضلعی عدلیہ کے ججز کے مختلف تربیتی کورسز کی تکمیل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ذہنی صحت اور کم دباؤ ہر انسان کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، خصوصاً اُن ججز کے لیے جو روزانہ عوام کے بنیادی حقوق اور انصاف کی فراہمی جیسے حساس امور سے نمٹتے ہیں۔

جسٹس  جواد حسن نے   پنجاب جوڈیشل  افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک جج اُس وقت غیر ضروری دباؤ کا شکار نہیں ہوتا جب اسے قانون پر کامل عبور ہو اور وہ اپنے سامنے موجود فائل اور مقدمے کے تمام پہلوؤں پر مکمل گرفت رکھتا ہو۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ نہایت اہم اور چیلنجنگ مقدمات سے نمٹ چکے ہیں، لیکن کبھی کسی قسم کے ذہنی دباؤ میں مبتلا نہیں ہوئے۔جسٹس جواد حسن نے عدلیہ پر عوام کے اعتماد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط اور شفاف عدالتی نظام کی بنیاد ہی عوام کا بھروسہ ہے۔ اسی لیے جج کو چاہیے کہ وہ اپنے فیصلے کھلی عدالت میں سنائے تاکہ عدالتی کارروائی عوامی اعتماد کے مطابق شفاف رہے۔ انہوں نے اس بات کو بھی ضروری قرار دیا کہ فیصلے غیر ضروری طور پر مؤخر نہ کیے جائیں اور مقدمات کو بروقت نمٹایا جائے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید  کہا کہ  جوڈیشل اکیڈمی میں ’’جج کرافٹنگ‘‘ کے موضوع پر نئے اور جدید تربیتی کورسز متعارف کروائے جا رہے ہیں تاکہ ججز کی صلاحیتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید بہتر بنایا جا سکے۔ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی ضلعی عدلیہ کو تربیت فراہم کرنے کی اہم ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔انہوں نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محترمہ عالیہ نیلم کی جانب سے ضلعی عدلیہ کی استعداد کار بڑھانے اور ججز و عدالتی عملے کی فلاح و بہبود کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو بھی سراہا۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ نہ صرف ججز کی بلکہ عدالتی عملے کی تربیت اور صلاحیت سازی بھی اتنی ہی ضروری ہے کیونکہ یہ عدالتی نظام کا بنیادی ستون ہیں۔تقریب میں سول ججز، سینئر سول ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز نے شرکت کی جنہوں نے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی سے ریونیو دستاویزات کی تشریح، ذہنی دباؤ کم کرنے کے طریقوں اور عدالتی کام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے پانچ روزہ خصوصی تربیت مکمل کی۔