ویب ڈیسک:اسلام آباد اور گرد و نواح میں گزشتہ چند دنوں سے سخت سردی کی لہر جاری ہے۔ دن اور رات کے درجہ حرارت میں نمایاں فرق، بارش نہ ہونے کی وجہ سے خشک فضا اور مسلسل سرد ہوائیں شہریوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔
شہری بارش نہ ہونے پر پریشان دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ خشک سردی کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری دیگر بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔
ایک اندازے کے مطابق شہر کے مختلف اسپتالوں میں نزلہ، زکام، کھانسی، گلے کی خراش، بخار، سینے میں جکڑن اور وائرل انفیکشن کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
جنرل فزیشن ڈاکٹر محمد ندیم کا کہنا ہے کہ خشک موسم میں انسانی ناک اور گلے کی جھلیاں سوکھ جاتی ہیں جس کے باعث وائرس اور بیکٹیریا تیزی سے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے چھوٹے بچے، بزرگ اور پہلے سے کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد ان بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں اور موسم کی تبدیلی بھی ان افراد پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔
اسلام آباد میں سردی کے موسم میں عام طور پر وقفے وقفے سے بارشیں ماحول کا درجہ حرارت متوازن رکھتی ہیں مگر گزشتہ برس کی طرح اس بار بھی بارش نہ ہونے کی وجہ سے فضا میں مٹی اور آلودگی کے ذرات بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آلودہ اور خشک ہوا پھیپھڑوں کے انفیکشن، سانس کی تکالیف، دمے کے حملے، الرجیز اور گلے کی بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
موسم کی شدت اور بڑھتے ہوئے وائرل انفیکشنز سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں جن میں گرم کپڑوں کا استعمال، گھر سے باہر نکلتے وقت مفلر یا ماسک لازمی پہننا وغیرہ شامل ہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ گرم پانی اور دیگر گرم مشروبات کا استعمال بڑھایا جائے اور ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔
ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات صاحبزاد خان کے مطابق ملک میں آئندہ چند ہفتوں تک موسم میں کسی نمایاں تبدیلی کا امکان نہیں ہے اور مجموعی طور پر موسم خشک اور سرد ہی رہنے کی توقع ہے۔