’’وزیر بننا ہی مقصد ہوتا تو دس سال اپوزیشن میں نہ ہوتا‘‘

’’وزیر بننا ہی مقصد ہوتا تو دس سال اپوزیشن میں نہ ہوتا‘‘

( علی اکبر ) تحریک انصاف کے رہنما عبدا لعلیم خان نے کہا ہے کہ کبھی وزارت کا شوق نہیں رہا، اگر وزیر بننا ہی مقصد ہوتا تو دس سال اپوزیشن میں نہ ہوتا، آج ہماری جماعت میں وہ لوگ بھی وزیر ہیں جو ن لیگ میں بھی وزیر تھے۔

سابق سینئر وزیر عبدالعیلم خان نے کہا ہے کہ وزارت کا کبھی لالچ نہیں رہا، وزارت کا لالچ ہوتا تو کبھی 10 سال اپوزیشن میں نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت میں آج وہ لوگ بھی وزیر ہیں جو ن لیگ کے دور میں وزیر تھے۔ نیب کیسز کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا، جو لوگ کہتے ہیں کہ وزیراعظم کو میری گرفتاری کا علم تھا وہ اپنی اہمیت بڑھانے کے لیے ایسا کہتے ہیں۔ میری جدوجہد عمران خان کو وزیراعظم بنانا تھا جس کے لیے ایمانداری اور خلوص دل سے کام کیا، اپنی پریشانیوں میں الجھا ہوا ہوں باہر آکر کھل کر باتیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کے حق میں نہیں تھا۔ ہماری حکومت اچھی کارکردگی دکھا رہی ہے، شروع میں معیشت میں مشکلات پچھلی حکومتوں کی پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔ حکومت کو اندازہ ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر پڑا۔ عوام کو ریلیف دینا عمران خان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کی ضمانت قانون کے مطابق ہے، کسی کو کوئی تکلیف ہے تو اسے علاج کا حق حاصل ہے۔ بلاول کے مارچ سے میرا نہیں خیال کہ حکومت کو کوئی پریشانی ہو، بلاول کے مارچ میں کسی جگہ کوئی بڑا اجتماع نہیں ہوا۔

فیاض الحسن چوہان کو بلدیات کا قلمدان ملنے کی مجھے اطلاع نہیں، میں جیل میں ہوں مجھ سے مشاورت نہیں ہورہی۔ یہ اختیار وزیراعلی پنجاب کا ہے، میری دو ماہ میں وزیراعلیٰ سے ایک ہی ملاقات ہوئی ہے۔