ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بارانی پانی کو ذخیرہ کرنےکیلئے 800 نئے منی ڈیمز بنانے کی منظوری،مریم نواز کے زیر صدارت اجلاس میں اہم فیصلہ

بارانی پانی کو ذخیرہ کرنےکیلئے 800 نئے منی ڈیمز بنانے کی منظوری،مریم نواز کے زیر صدارت اجلاس میں اہم فیصلہ
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

راؤ دلشاد: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت ٹرانسفارمیشن آف ایگریکلچر اور واٹر مینجمنٹ سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں صوبے میں پانی کے تحفظ، زیرِ زمین پانی کی مؤثر مینجمنٹ اور زرعی شعبے میں آبی وسائل کے بہتر استعمال کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ نے پنجاب میں پانی کی بچت اور گراؤنڈ واٹر مینجمنٹ سے متعلق رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ "سمجھدار قوم وہی ہوتی ہے جو پانی کے ایک ایک قطرے کو محفوظ بناتی ہے۔" انہوں نے بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے جدید آن گراؤنڈ واٹر باڈیز کا جامع منصوبہ بھی طلب کر لیا۔

اجلاس کے دوران پوٹھوہار کے بارانی علاقوں میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے آئندہ تین برسوں میں مزید 800 منی ڈیمز تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی۔ حکام کے مطابق ان نئے منی ڈیمز سے 32 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگی، جبکہ اجلاس میں بتایا گیا کہ اب تک 110 منی ڈیمز مکمل کیے جا چکے ہیں اور ان کے تصویری شواہد بھی پیش کیے گئے۔

وزیراعلیٰ کو اٹک، تلہ گنگ، گوجر خان اور راولپنڈی میں نئے تعمیر شدہ منی ڈیمز پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جدید اور محفوظ آن گراؤنڈ واٹر باڈیز کی تعمیر کو بھی ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔

اجلاس میں زیرِ زمین پانی کے مؤثر انتظام کے لیے موجودہ قانونی فریم ورک کو مزید فعال اور مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی، جبکہ واٹر کنزرویشن اور پانی کی مانیٹرنگ کے لیے خصوصی ہیومن ریسورس اسٹاف تعینات کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ زراعت، محکمہ آبپاشی، محکمہ ہاؤسنگ اور لوکل گورنمنٹ کو پانی کے تحفظ کے لیے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنے کی ہدایت دی۔

زرعی شعبے میں پانی کے مؤثر استعمال کے لیے جاری مالی سال کے دوران کسانوں کو 50 فیصد سبسڈی پر ایک ہزار نئے لیزر لینڈ لیولرز فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پانی کی تقریباً 20 فیصد بچت کے لیے صوبے میں 7 ہزار کلومیٹر طویل 2,600 واٹر کورسز کی پختگی کا کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ آئندہ تین برسوں میں مزید 11,500 کلومیٹر طویل 4,500 واٹر کورسز کی پختگی اور اصلاح کی جائے گی۔

حکام نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات ڈویژن میں 100 ریچارج ویلز فعال ہو چکے ہیں، جبکہ مزید 300 ریچارج ویلز کی تکمیل آخری مراحل میں ہے۔

اجلاس کے دوران صوبے میں کھاد کی مجموعی دستیابی، فراہمی اور زرعی ضروریات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ پانی کے تحفظ اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے تمام منصوبوں پر بروقت عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔