سٹی42: بھارت کی نریندر مودی حکومت دیارِ غیر میں سزائے موت پانے والی انڈین نرس کی سزائے موت ختم کروانے کی کوشش میں ناکام ہو گئی۔ حکومت کے ترجمان نے ناکامی کا اعتراف کر لیا۔
انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے تجمان نے کہا ہے کہ نمیشا پریا کی سزائے موت ختم ہونے کی اطلاع غلط ہے۔ وزارتِ خارجہ نے ان اطلاعات کو غلط قرار دیا ہے کہ یمن میں نمیشا پریا کی سزائے موت ختم کر دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ایسی خبریں درست نہیں اور کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی۔
نئی دہلی میں انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے ان اطلاعات کو غلط قرار دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ یمن میں قید ہندوستانی نرس نمیشا پریا کی سزائے موت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، یمنی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے اور جو خبریں گردش کر رہی ہیں، وہ درست نہیں ہیں۔
عالم دین کانتھاپورم اے پی ابوبکر مسلیار کے دفتر کی جانب سے پیر، 28 جولائی کو ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یمن کے دارالحکومت صنعاء میں حوثی ملیشیا کی حکومت نے نمیشا پریا کی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اس عالم کے بیان کے مطابق، یہ فیصلہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہوا جس میں یمنی علما، سفارتکار اور مقامی حکام شریک تھے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی یمنی حکومت کی جانب سے تحریری تصدیق موصول نہیں ہوئی۔
اسی دن بعد میں وزارتِ خارجہ کے ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ ’’نمیشا پریا کیس سے متعلق بعض افراد جو اطلاعات دے رہے ہیں وہ غلط ہیں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی خبریں غیر مصدقہ ہیں اور حکومت کے پاس ایسی کسی پیشرفت کی تصدیق موجود نہیں ہے۔
نمیشا پریا کیرالہ سے یمن جا کر کام کرنے والی 37 سالہ نرس ہیں جو 2008 میں ملازمت کے لیے یمن گئی۔ 2015 میں اس نے ایک یمنی شہری طلال عبدو مہدی کے ساتھ مل کر ایک میڈیکل کلینک کا انتظام سنبھالا، کیونکہ یمن میں غیر ملکیوں کو اکیلے کلینک چلانے کی اجازت نہیں۔ بعد میں نمیشا نے الزام لگایا کہ مہدی ان پر تشدد کرتا تھا، ان کا پاسپورٹ چھین لیا اور مالی بدعنوانی کی۔
جولائی 2017 میں، نمیشا نے مبینہ طور پر مہدی کو نشہ آور دوا دے کر بے ہوش کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ اپنا پاسپورٹ واپس لے سکے لیکن دوا کی مقدار مہلک ثابت ہوئی۔ مہدی کی موت کے بعد، اس نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ لاش کے ٹکڑے کر کے اسے پانی کی ٹنکی میں چھپا دیا۔
نمیشا کو اگست 2017 میں یمنی حکام نے گرفتار کیا اور 2018 میں ایک فوجداری عدالت نے سزائے موت سنائی۔ اعلیٰ عدالتوں سے اپیلیں ناکام ہونے کے بعد، نومبر 2023 میں یمن کی سپریم جوڈیشل کونسل نے سزائے موت کی توثیق کی۔ پھانسی 16 جولائی 2025 کو ہونا طے تھی، جسے ملتوی کر دیا گیا۔
اگرچہ بعض رپورٹوں میں خون بہا کے امکان اور مقتول کے اہل خانہ سے بات چیت کا ذکر آیا لیکن انڈیا کی حکومت نے ان خبروں کی نہ تو تردید کی ہے اور نہ ہی تصدیق کی ہے۔ فی الحال، سرکاری موقف صرف اتنا ہے کہ سزائے موت برقرار ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔