سٹی 42: پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کےپی سہیل آفریدی کی آمدپرہلڑبازی ہوئی ۔سپیکرملک محمداحمدخان کی بنائی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ منظرعام پرآگئی۔
رپورٹ میں ہلڑبازی میں ملوث افرادکےخلاف قانونی کارروائی کرنےکی تجویز دی گئی ۔ رپورٹ میں معاملےکی تفتیش میں قانون نافذکرنیوالےاداروں کی مددلینےکی تجویز بھی دی گئی ۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ سہیل آفریدی کی آمدپراپوزیشن نےساتھ آئےمہمانوں کی فہرست ناموں پرمشتمل دی،اپوزیشن کی جانب سے دی گئی نا کافی لسٹ کے باعث شناخت میں مشکلات پیش آئیں،
مطیع اللہ برقی نامی شخص نے جھوٹ بول کر اسمبلی میں داخلے کی کوشش کی،مطیع اللہ برقی نے کہا وہ خیبرپختونخوا پی کے 89 سے ایم پی اے اشفاق ہیں ۔صوبائی وزیرکےپی میناخان نےتصدیق کی کےمطیع اللہ برقی ایم پی اےاشفاق نہیں۔
رپورٹ کے مطابق مطیع اللہ برقی کوباہرجانےکاکہنےپرانہوں نےسکیورٹی کیساتھ ہاتھاپائی اورگالم گلوچ کیا۔اپوزیشن نےیقین دہانی کرائی کےشناخت کیلئے2ارکان مین گیٹ پرہونگےجونہ ہوسکا۔لسٹ میں شناختی کارڈنمبر،تصاویر،گاڑیوں کےنمبرکچھ نہ تھاجس سےمشکلات آئیں۔اسمبلی سکیورٹی نےشناخت کی گزارش کی جس پرقافلےنےگالم گلوچ،دھکم پیل کی۔
اپوزیشن کی جانب سےدی گئی لسٹ میں سزایافتہ حیدرمجیدکانام بھی شامل تھا۔اسمبلی سیکرٹریٹ نےموقع پرموجوداسمبلی سکیورٹی کےبیانات بھی قلم بندکئے۔
