سٹی42: ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ اقتصادی تعلقات مکمل طور پر منقطع کر لیے، اسرائیل ہر طرح کے طیاروں کیلئے فضائی حدود بند کر دیں۔
بند فضائی حدود کی وجہ سے اسرائیل سے جارجیا اور آذربائیجان جیسے ممالک کے لیے پروازوں کا سفری وقت تقریباً دو گھنٹے تک بڑھ سکتا ہے۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے جمعہ کو کہا کہ ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی اور اقتصادی تعلقات مکمل طور پر منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اسرائیلی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رہا ہے۔
اگرچہ اس اقدام کے معاشی نتائج کی تفصیل ابھی سامنے نہیں البتہ یہ واضح ہے کہ ترکیہ کی فضائی حدود اسرائیلی کمرشل ائیرلائنز کے طیاروں کیلئے بند ہو جانے سے اسرائیل سے جارجیا اور آذربائیجان جیسے ممالک کے لیے فلائٹس کا سفری وقت تقریباً دو گھنٹے بڑھ سکتا ہے۔
ایک اسرائیلی اہلکار نے نیوز آؤٹ لیٹ دی یروشلم پوسٹ کو بتایا: "ترکی پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ اقتصادی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر چکا ہے "۔
ترکیہ کا یہ اقدام ان رپورٹوں کے بعد سامنے آیا ہے کہ ترک بندرگاہ کے حکام نے غیر رسمی طور پر جہاز رانی کے ایجنٹوں کو ترکیہ کی بندرگاہوں پر آنے کیلئے اس وضاحت کےخطوط فراہم کرنے کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا ہے جن میں اعلان کیا گیا ہو کہ ترکیہ کی بندرگاہ پر آنے والے جہاز اسرائیل سے منسلک نہیں ہیں اور یہ بھی بیان کریں کہ یہ جہاز اسرائیل کے لئے کوئی فوجی یا خطرناک سامان نہیں لے جا رہے ہیں۔
جہاز رانی کے ذرائع کے مطابق یہ اقدام اسرائیل کے خلاف ایک اور قدم ہے جب ترکی نے گذشتہ سال حماس کے ساتھ غزہ میں جنگ کے باعث اس ملک کے ساتھ سالانہ 7 بلین ڈالر کی تجارت منقطع کر دی تھی۔