ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں کنٹرولر جنرل ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی تقرری سے متعلق سروس رولز کالعدم قرار دینے کے سنگل بینچ کے فیصلے کو پنجاب حکومت نے انٹرا کورٹ اپیل کے ذریعے چیلنج کر دیا۔ دو رکنی بینچ نے پنجاب حکومت کی اپیل پر مدعا علیہ حافظ غنظفر علی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
جسٹس ملک وقار حیدر اعوان اور جسٹس ملک جاوید اقبال وینس پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر جسٹس ملک جاوید اقبال وینس نے لاء افسر سے استفسار کیا کہ "جی لاء افسر، یہ کیا معاملہ ہے؟"
اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان نے عدالت کو بتایا کہ معاملہ آئین کے آرٹیکل 212 کی تشریح سے متعلق ہے۔جسٹس ملک جاوید اقبال وینس نے استفسار کیا کہ سنگل بینچ نے صوبے کے سروس رولز بنانے کے اختیار کے بارے میں کیا فیصلہ دیا ہے؟اس پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ سنگل بینچ نے ایک طرف صوبے کے رولز بنانے کے اختیار کو تسلیم کیا، جبکہ دوسری طرف انہی رولز کو کالعدم قرار دے دیا۔
لاء افسر نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ لاہور ہائیکورٹ میں قابلِ سماعت ہی نہیں تھا۔ درخواست گزار کو سروس ٹربیونل سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔
اس موقع پر جسٹس ملک وقار حیدر اعوان نے ریمارکس دیے کہ اس نکتے پر سپریم کورٹ کے نظائر پہلے سے موجود ہیں۔سماعت کے دوران جسٹس ملک جاوید اقبال وینس نے استفسار کیا کہ اگر رولز کالعدم قرار دے دیے گئے تو معاملہ دوبارہ محکمہ کو ہی کیوں بھیج دیا گیا؟
اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان نے جواب دیا، "جی، مائی لارڈ، ایسا ہی ہوا تھا۔"پنجاب حکومت کے لاء افسر نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کے لیے متعلقہ فورم سروس ٹربیونل تھا اور آئین کے آرٹیکل 212 کے تحت سروس معاملات میں ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق قانونی سوال موجود ہے۔دو رکنی بینچ نے پنجاب حکومت کے دلائل سننے کے بعد مدعا علیہ حافظ غنظفر علی کو نوٹس جاری کر دیا اور کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔