ویب ڈیسک: خیبرپختونخوا کے مشہور سیاحتی مقام ناران میں نکاح نامے کے بغیر داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبر جھوٹی نکلی ہے۔ اس معاملے پر ڈی پی او مانسہرہ عمر طارق نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی پابندی نہ لگائی گئی ہے اور نہ ہی زیر غور ہے۔
ڈی پی او کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر جس میں مبینہ طور پر نکاح نامے کے بغیر داخلے پر پابندی کا بینر دکھایا گیا ہے کسی دوسرے ملک کی ہے اور پاکستان یا ناران سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تصویر اور اس کے ساتھ کیا جانے والا پروپیگنڈا غلط اور گمراہ کن ہے اور ہم اس فیک خبر کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ڈی پی او عمر طارق نے کہا کہ ناران سمیت خیبرپختونخوا کے تمام سیاحتی مقامات ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے مکمل طور پر کھلے ہیں۔سیاحوں کی سہولت اور سکیورٹی کے لیے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔پولیس کی کوشش ہے کہ سیاحوں کو پرامن، محفوظ اور خوشگوار ماحول فراہم کیا جائے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں ایک بینر پر لکھا گیا تھا کہ "نکاح نامہ دکھائے بغیر ناران میں داخلے کی اجازت نہیں"۔ اس تصویر کے ساتھ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ پالیسی ناران میں نافذ کی گئی ہے جس پر عوام اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تاہم اب پولیس حکام نے اس خبر کی مکمل تردید کر دی ہے۔
سیاح ناران اور دیگر علاقوں کا رخ بغیر کسی خدشے کے کر سکتے ہیں، نکاح نامے سے متعلق کوئی شرط یا پابندی نہیں لگائی گئی۔ حکام نے سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری شدہ معلومات پر بھروسہ کریں۔
دوسری جانب وادی ناران کے ہوٹل مالکان نے عالمی یوم سیاحت کے موقع پر سیاحوں کے لئے پچاس فیصد رعایتی پیکج کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق سیاحتی مقام ناران قدرتی اور اپنے طلسماتی حسن کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کا مسکن رہتا ہے۔ عالمی یوم سیاحت کے موقع ہر ناران ہوٹل مالکان کی جانب سے سیاحوں کے لئے ہوٹل کمروں اور جیب کے کرایوں میں پچاس فیصد رعایت کا اعلان کردیا ہے۔ ناران آنے والے سیاحوں نے رعایتی پیکج کو خوش آئیند قرار دیا ہے، غیر ملکی خاتون سیاح بھی عالمی یوم سیاحت کے موقعے پر ناران میں موجود ہیں جہاں ان کی موج مستیاں جاری ہیں۔