ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

’’انصاف کی نئی صبح ۔۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم کی عدالتی اصلاحات کا عہد‘‘

’’انصاف کی نئی صبح ۔۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم کی عدالتی اصلاحات کا عہد‘‘
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

لاہور ہائیکورٹ کی تاریخ میں اکتوبر 2025 ایک یادگار سنگ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ وقت ہے جب پہلی مرتبہ زیرِ التواء مقدمات میں 11 فیصد تک نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی — ایک ایسا کارنامہ جو نہ صرف عدالتی نظام کی کارکردگی بلکہ انصاف کی بروقت فراہمی کی سمت ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
یہ کامیابی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں، بلکہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس جسٹس عالیہ نیلم کے وژن، قیادت اور غیر معمولی انتظامی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔
،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے عہدہ سنبھالتے ہی یہ طے کر لیا تھا کہ عدلیہ کو محض فیصلے دینے والا ادارہ نہیں بلکہ ایک ایسا نظام بنانا ہے جہاں انصاف “تاخیر کے بغیر، وقار کے ساتھ” فراہم ہو۔ان کی قیادت میں سب سے پہلے کیس مینجمنٹ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا۔ مقدمات کی روزانہ ٹریکنگ، ورک فلو مانیٹرنگ، اور ججز کی کارکردگی کے باقاعدہ جائزے کا نیا نظام متعارف کرایا گیا، جس سے تاخیر کے اسباب کم ہوئے اور شفافیت بڑھی۔،،چیف جسٹس عالیہ نیلم کی اصلاحات کا ایک اہم ستون ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ہے۔ عدالتوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، ای-کورٹس کا قیام، اور ریجنل بینچز میں آن لائن مقدمات کی سماعت جیسے اقدامات نے لاہور ہائیکورٹ کے انتظامی ڈھانچے کو حقیقی معنوں میں جدید اور مؤثر بنایا۔
اس ڈیجیٹلائزیشن سے نہ صرف مقدمات کے فیصلے تیز ہوئے بلکہ شہریوں کے لیے عدالتی کارروائیوں تک رسائی بھی آسان ہوئی — ایک ایسا قدم جو عام آدمی کے اعتماد کو بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
،،عدلیہ ہمیشہ سے عوامی اعتماد کا مرکز رہی ہے، مگر تاخیر اور غیر ضروری التواء نے اس اعتماد کو کمزور کیا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس کمزوری کو چیلنج سمجھا اور جوابدہی کی نئی روایت قائم کی۔
تمام ججز کو ہدایت دی گئی کہ مقدمات کے جلد فیصلے، غیر ضروری تاریخوں سے اجتناب، اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی رپورٹنگ یقینی بنائیں۔ اس شفاف نظام نے عدالتی کارکردگی میں نمایاں بہتری پیدا کی اور عوام کو یہ پیغام دیا کہ عدالتیں زندہ اور متحرک ہیں۔وکلاء برادری اور سائلین کی جانب سے بھی چیف جسٹس عالیہ نیلم کے اقدامات کو زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات نہ صرف عدالتی نظام کو مؤثر بنا رہی ہیں بلکہ ایک نئے پیشہ ورانہ کلچر کو جنم دے رہی ہیں، جہاں وقت کی پابندی، شفافیت اور میرٹ کو فوقیت دی جا رہی ہے۔عام شہریوں کے لیے یہ تبدیلی امید کی نئی کرن بن کر ابھری ہے، کیونکہ اب وہ دیکھ رہے ہیں کہ انصاف محض ایک خواب نہیں بلکہ ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے۔

 چیف جسٹس عالیہ نیلم بارہا یہ کہہ چکی ہیں کہ: “عدلیہ کا مقصد صرف فیصلے دینا نہیں، بلکہ انصاف کو جلد، مؤثر اور شفاف انداز میں فراہم کرنا ہے۔”یہ وہ فلسفہ ہے جو ان کے ہر اقدام کی بنیاد بنا۔ ان کے وژن نے لاہور ہائیکورٹ کو ایک “ایڈمنسٹریٹو ادارے” سے “اصلاحاتی عدلیہ” میں بدل دیا ہے۔اگر یہ اصلاحاتی رفتار اسی تسلسل سے جاری رہی تو آنے والے مہینوں میں نہ صرف زیرِ التواء مقدمات مزید کم ہوں گے بلکہ پورے عدالتی ڈھانچے میں استحکام پیدا ہوگا۔ یہ تبدیلی صرف لاہور ہائیکورٹ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ دیگر صوبائی عدلیہ کے لیے بھی ایک نمونۂ عمل بن سکتی ہے۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر قیادت میں وژن، دیانت اور استقامت ہو تو بڑے سے بڑا نظام بھی بدل سکتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں جاری اصلاحات صرف عدلیہ کی نہیں بلکہ انصاف کے اس خواب کی تکمیل ہیں جس کا وعدہ ہر آئین کرتا ہے۔
یہ ایک خاموش انقلاب ہے — انصاف کی سمت اٹھایا گیا وہ مضبوط قدم جو آنے والی نسلوں کے لیے اعتماد اور امید کی بنیاد رکھے گا۔

 نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر

Ansa Awais

Content Writer