مذہبی جماعت کا لانگ مارچ کامونکی سے روانہ،وزیر اعلیٰ کی صدارت میں اہم اجلاس

tlp protest in lahore
کیپشن: tlp protest in lahore
سورس: google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : مذہبی تنظیم  کے کارکنان نے کامونکی سے اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کر دیا ہے جبکہ دوسری جانب پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس طلب کیا ہے۔

صبح ساڑھے دس بجے دن کامونکی سے مارچ کا آغاز کیا گیا۔ انتظامیہ کی طرف سے مارچ کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ تاہم  راستے پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ کامونکی تا گوجرانوالہ  جی ٹی روڈ کئی جگہوں پر کنٹینر لگا کر بند کی جا چکی ہے۔تحصیل کامونکی  اور قرب وجوارمیں موبائل سروس بند ہے۔ اندرون شہر میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل جبکہ فون کال کی سہولت موجود ہے۔  دوسری طرف رینجرز اور پولیس نے دریائے چناب اور وزیر آباد کے بارڈر پر سیکیورٹی سنبھال لی۔ پولیس نے مظاہرین کو اندرون شہر گوجرانوالہ کی بجائے وزیر آباد اور دریائے چناب کے قریب روکنے کا منصوبہ تشکیل دیا ہے۔ جی ٹی روڈ سے ملحقہ تعلیمی ادارے بھی بند ہیں جبکہ جی ٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی انتہائی کم ہے۔۔

 یادرہے سادھوکی میں ہونے والی مڈبھیڑ اور پولیس اہلکاروں و افسروں کے بڑے پیمانے پر زخمی ہونے  کے بعدآئی جی پنجاب کے حکم پر  لاہور سے بھیجی گئی نفری کو واپس طلب کرلیا گیا تھا۔ 

صبح گوجرانوالہ اور کامونکی کے درمیان بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو دوبار تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ لاہور کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے کئے گئے اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا، وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جانب سےصوبے میں امن عامہ کے قیام کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھائے کی ہدایت کی  گئی۔ 

وزیر اعلیٰ کا کہنا  تھا کہ معمولات زندگی کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔عوام کے  جان ومال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور ریاست اپنی یہ ذمہ داری ہر صورت نبھائے گی۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ راستوں کی بندش کی وجہ سے عوام کوجو تکلیف اٹھانا پڑی جس کی وجہ سے وہ ذاتی طور پرمعذرت خواہ ہیں۔ اجلاس میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت،معاون خصوصی برائے اطلاعات حسان خاور،چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ اور ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ شریک ہوئے۔