ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نمبر بڑھانےکےعوض جنسی استحصال کا شوقین پروفیسر گرفتار،مقدمہ درج

viral video, social media influence , DPO Wihari, City42 , University lecturer, Sexual harassment case
کیپشن: فیس بک پر موجود ویڈیو کلپ میں  زرعی یونیورسٹی بورےوالا کے نام نہاد ٹیچر  کو "نمبر بڑھانے" کے لئے جنسی استحصال کی ڈیمانڈ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  بورے والا میں زرعی یونیورسٹی کیمپس کے مبینہ جنسی ہراسانی سکینڈل میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور  پولیس نے گرفتار ہو چکے پروفیسر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

  ڈی پی او وہاڑی نے واقعے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے گرفتار پروفیسر یحییٰ خان کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ پولیس نے سب انسپکٹر دلشاد کی مدعیت میں تھانہ شیخ فاضل میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

وہاڑی کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر  نے سٹوڈنٹس کو ہراساں کرنے کے معاملہ میں ملوث پائے گئے گرفتار پروفیسر کے خلاف کاروائی کا حکم دے دیا ہے۔

بورے والا کے تھانہ شیخ فاضل کے اہلکاروں میں سے ایک نے اپنی مدعیت میں ملزم ڈاکٹر یحیٰی خان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا ہے۔ 

ڈی پی او وہاڑی نے یقین دلایا ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف فوری ایکشن ہوگا۔ 

ڈی پی او نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے ویژن کے مطابق خواتین کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

واقعہ کیا ہوا

زرعی یونی ورسٹی فیصل آباد نے اپنا ایک کیمپس وہاڑی کے شہر بورے والا میں بنا رکھا ہے۔  یونیورسٹی کے  بورےوالا  کیپمس میں ایک ٹیچر مبینہ طور پر سٹوڈنتس کو بلیک میل کرنے، ہراساں کرنے میں ملوث پایا گیا۔ یہ معاملہ اس وقت سکینڈل کی شکل اختیار کر گیا جب کسی سٹوڈنٹ نے اس ٹیچر کی ویڈیو کلپ بنا کر یونی ورسٹی کی انتظامیہ کے سامنے رکھ دی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے طریقہ کار کے مطابق اس شکایت کی چھان بین شروع کی لیکن اس چھان بین کے منطقی انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی معاملہ سوشل میڈیا میں آ گیا۔ ویڈیو کلپ وائرل ہو گئی۔

اس کے بعد یونی ورسٹی انتظامیہ کا یہ مؤقف سامنے آیا کہ  طالبہ نے 31 اکتوبر 2025 کو باقاعدہ تحریری درخواست انتظامیہ کے پاس جمع کروائی جس پر پرنسپل نے متعلقہ اسٹاف کے خلاف ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے وومن حراسمنٹ کے تحت شکایت وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کو ارسال کی گئی جس پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے انکوائری کمیٹی کی فائنڈنگ مکمل ہوتے ہی رپورٹ اور سفارشات معزز شہریوں اور میڈیا پرسنز کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے والی ویڈیو کلپ

اس ویڈیو کلپ میں نام نہاد ٹیچر کو سٹوڈنٹ کے امتحانی پرچہ میں مارکس بڑھانے کے عوض سفلہ خواہشات کی تکمیل کے لئے ہراساں کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ سکینڈل سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تو وہاڑی اور بورے والا پولیس کے سینئیر افسروں نے کارروائی کر کے ہراساں کرنے میں ملوث نام نہاد ٹیچر کو گرفتار کر لیا۔ تفتیش ہوئی، کچھ حقائق سامنے آئے جس کے بعد ڈی پی او وہاڑی نے اس مکروہ کردار کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنانے کے لئے معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ 

دو دن پہلے فیس بک پر سامنے آنے والی ویڈیو کلپ کے کیپشن میں لکھا گیا، "بورےوالا(***نیوز)زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سب کیمپس بورےوالا کا پروفیسر طالبہ کے ساتھ ناجائز جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے اشاروں سے ڈیمانڈ کرنے لگا۔طالبہ نے کہا کہ سر پلیز 2 نمبر لگا دیں تو پروفیسر اسے ہاتھ کے اشارے سے جنسی تعلق اور ہوس کی تکمیل کے لیے اشارے کرنے لگا پروفیسر کا کہنا تھا کہ میں آپکو پیپر حل کرنے دوں تو آپ مجھے کیا فایدہ دو گی۔

یونیوسٹی کی انتظامیہ کا مؤقف

یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف ہے کہ طالبہ نے 31 اکتوبر 2025 کو باقاعدہ تحریری درخواست انتظامیہ کے پاس جمع کروائی جس پر پرنسپل نے متعلقہ اسٹاف کے خلاف ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے وومن حراسمنٹ کے تحت شکایت وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کو ارسال کی گئی جس پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے انکوائری کمیٹی کی فائنڈنگ مکمل ہوتے ہی رپورٹ اور سفارشات معزز شہریوں اور میڈیا پرسنز کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔۔