سٹی 42 : بجلی کے شعبے میں مسائل کے حل کے لئے عوامی ہیلپ لائن 118 کا افتتاح کردیا گیا۔
وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے ہیلپ لائن کا افتتاح کیا، بتایا گیا ہے کہ ہیلپ لائن کے ذریعے بجلی کے شعبے کی شکایات فری درج کرائی جاسکیں گی، ہیلپ لائن کے ذریعے شکایات ٹریک اینڈ ٹریس بھی ہوسکیں گی۔ صارفین نمائندے کی بجائے براہ راست سسٹم میں شکایت سرج کراسکیں گے۔
صارفین سات مختلف زبانوں میں شکایات درج کراسکیں گے، شکایت کاازالہ ہونے پر متعلقہ صارف کو روبوٹک فیڈ بیک کال کی جائے گی۔ شکایت کا ازالہ نہ ہونے پر وہ شکایت دوبارہ ایکٹو ہوجائے گی۔
وفاقی وزیر پاور اویس لغاری نے اپ گریڈ شدہ ہیلپ لائن 118 کی لانچنگ تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ اس سسٹم کے تحت شکایات سامنے آئیں گی، اس نظام سے پاور سیکٹرمیں خوداحتسابی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم فیلڈ مارشل اور حکومتیں شامل حال نہ ہوتیں توبہت کچھ حاصل نہ کرپاتے، آج کے بعد ایک ایک نااہلی سامنے آئے گی جسکی ذمہ داری ہمیں اٹھانی ہوگی، ذمہ داری کے بعد کچھ اقدامات کرنا ہوں گے۔
اویس لغاری نے کہا کہ میرے گھر کی بجلج جاتی تھی تو کال اٹھانے والا کوئی نہیں ہوتا تھا، ہم نے لوگوں کو اس سسٹم سے آزاد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبران اسمبلی ٹرانسفرز کا اس لئے کہتے ہیں تاکہ ان کے کام ہوسکیں، کوشش کررہے کہ سب کو برابری کی سطح پر کھڑا کریں۔ وزارت توانائی میں شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جب تک ہم خود کو ایکسپوز نہیں کریں گے خود احتسابی نہیں ہو سکتی۔
وزیر توانائی نے بتایا کہ ہیلپ لائن کے اس پروگرام میں لائن مین تک سب کی غلطیاں سامنے آئیں گی، اپنی غلطیوں کی ذمہ داری بھی ہمیں ہی اٹھانی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں خود 2017 سے 2018 اسی محکمے کا وزیر رہا ہوں۔ شکایات کے ازالے مصبیت سے نکلنے کیلئے یہ بہترین اقدام ہے، ہمارے سیاسی ڈیروں پر پولیس سے زیادہ بجلی کی شکایات آتی ہے۔
وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ ملک میں جتنے بجلی صارفین ہیں ان سب تک اس اقدام کا اثر جائے گا، سی ای اوز سے اپیل ہے کہ اسس سسٹم کو کامیاب بنائیں، سسٹم کی کامیابی کے بعد کمپنیوں کے لوگوں کو جتنا ممکن ہوا ایوارڈ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ڈسکوز اور ڈیٹا گیدرنگ پر انحصار کررہے ہیں، اور ڈیٹا میں ہیر پھیر ہوا تو اس سسٹم کا کوئی فائدہ نہیں۔