ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کشمیر میں سردی کا 17 برس کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

Kashmir Cold, IMD, Met Department, City42 Srinagar , Dal Lake , Shakara boats,
کیپشن: کشمیر میں سردی کا 17 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ ابھی نومبر کا آخری ہفتہ ہے، دسمبر اور جنوری میں سردی گزشتہ سالوں کے معمول سے زیادہ پڑے گی۔ ہمیں یہ بات کئی مہینوں سے پتہ تھی کہ ایسا ہو گا۔ آپ کو بھی پتہ تھا؟ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  وادی کشمیر میں شدید ترین سردی پڑ رہی ہے۔ اس خاص علاقہ یعنی مقبوضہ کشمیر میں سردی کا 17 برس کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔

ایسا ہونے کی پہلے ہی پیشین گوئی تھی جسے سٹی42 نے بھی شائع کیا تھا لیکن پاکستان کا میٹ آفس اس پیشین گوئی کا برا مان گیا تھا اور دعویٰ نشر کروایا تھا یہ سردی کچھ زیادہ نہیں پڑے گی. خشک سالی، بارش، برفباری کم ہونا الگ سے ایک معاملہ ہے جس کا تعلق لانینا سے جوڑا جاتا ہے لیکن سردی کا موسم شدید تر ہونا بہرحال زیادہ اثرات رکھنے والا معاملہ ہے، اس کا تعلق بھی لا نینا سے ہی ہے۔  پاکستان کا محکمہ موسمیات لانینا کے زیر اثر بارش کم ہونے، برف کم پڑے کی حد تک تو امکانات کی تصدیق کرتا رہا لیکن سردی زیادہ پڑنے کے امکان کو اب تک رد کر رہا ہے۔ اب یہ ہوا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں معمول سے زیادہ اور نمایاں طور پر شدید سردی پڑ گئی ہے جس نے پہلے سے موجود پیشین گوئی کی تصدیق کر دی ہے کہ سردی زیادہ پڑے گی۔

بھارت کے میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ وادی کشمیر میں نومبر میں ہی بے حد سخت سردی نے گزشتہ 17 برس کا ریکارڈ توڑ دیا۔ منفی درجہ حرارت، منجمد پانی، کم ہوتی خریداری اور شکارا چلانے والوں کی مشکلات نے کشمیر میں روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے
سری نگر سے یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ وادی کشمیر اس وقت ایسی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے جس نے گزشتہ 17 برس کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ نومبر میں ہی درجہ حرارت غیر معمولی حد تک گرنے سے لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو چکی ہے اور کئی مقامات پر چلہ کلاں جیسی ٹھنڈ وقت سے پہلے محسوس کی جا رہی ہے۔

سری نگر ائیرپورٹ پر ٹمپریچر مائنس ساڑھے چھ ڈگری سیلسئیس!

سرینگر میں جمعہ کی صبح کم سے کم درجہ حرارت منفی ساڑھے چار  4.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔  جبکہ سرینگر ہوائی اڈے پر ٹمپریچر زیادہ گرا اور منفی 6.4 ڈگری تک جا پہنچا۔ جنوبی کشمیر کے شوپیاں میں درجہ حرارت منفی 6.7 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، جس نے سردی کو مزید ناقابلِ برداشت بنا دیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق وادی کے بالائی علاقوں میں صورتحال کہیں زیادہ سنگین ہے اور کئی مقامات پر درجہ حرارت معمول سے 8 سے 10 ڈگری کم چل رہا ہے۔

زوجیلا درہ کے علاقہ میں ٹمپریچر منفی16 

بالائی علاقوں میں سردی کا زور کہیں زیادہ ہے۔ زوجیلا پاس میں درجہ حرارت منفی 16 ڈگری تک جا پہنچا ہے، جہاں برفانی ہوائیں چلنا بھی دشوار بنا رہی ہیں۔ گاندربل کے دراس روڈ پر ایک ڈرائیور نے بتایا کہ ڈیزل جم جانے سے گاڑیاں اسٹارٹ نہیں ہوتیں اور چہرے پر ٹھنڈی ہوا سوئیوں کی طرح چبھتی ہے۔

ڈل جھیل میں شکارا کشتی چلانا مشکل ہوا

ڈل جھیل کے شکارا چلانے والے اس سردی کی شدت سے سب سے زیادہ متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ شکارا چلانے والے فیاض احمد نے بتایا کہ صبح کے وقت ہوائیں ہاتھ جمانے لگتی ہیں اور برفانی سطح بننے سے چپو چلانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق سردی بڑھنے سے سیاحوں کی تعداد کم ہوئی ہے، جس کا سیدھا اثر روزگار پر پڑ رہا ہے۔ فیاض کا کہنا تھا کہ ’’جھیل پر تیز ہوائیں چلتی ہیں، ہاتھ گرم رکھنے کے لیے گرم پانی ساتھ رکھنا پڑتا ہے، پھر بھی سردی بدن کا زور توڑ دیتی ہے۔‘‘

بازاروں میں خریداری کم ہوگئی

وادی کے بازاروں میں بھی سردی بڑھنے سے معمولات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ لال چوک، مہاراج بازار اور نوہٹہ کے کئی دکانداروں نے بتایا کہ اچانک بڑھتی ٹھنڈ کی وجہ سے لوگ خریداری کے لیے گھروں سے نکلنے میں ہچکچا رہے ہیں۔ کپڑوں کے تاجر شاہد حسین کے مطابق نومبر میں عام طور پر لوگ جاڑے کے کپڑے خریدنے آتے ہیں مگر اس بار سردی نے اتنی تیزی سے شدت اختیار کی کہ بازار ویران دکھائی دیتے ہیں۔

قدیمی مسئلہ؛ پانی پائپ لائنوں میں جمنےلگا

گھریلو زندگی کی سطح پر سب سے بڑا مسئلہ پانی کی فراہمی کا ہے۔ نوہٹہ کے رہائشی ارشاد بٹ نے بتایا کہ صبح کے وقت پائپوں میں پانی جم جاتا ہے اور لائنیں کھولنے کے لیے گرم پانی ڈالنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’گھر کے چھوٹے بچے سب سے زیادہ متاثر ہیں، رات اور صبح کے اوقات میں کمروں کا درجہ حرارت کم رہتا ہے۔‘‘

بچوں کاسکول جانا مشکل ہوگیا
سخت سردی نہ صرف جسمانی مشکلات بڑھا رہی ہے بلکہ ذہنی دباؤ بھی بڑھا ہے۔ سرینگر کی رہائشی شائستہ جاوید کے مطابق، ’’صبح بچوں کو اسکول بھیجنا مشکل ہو گیا ہے۔ ہیٹر چلانے کے باوجود کمروں میں ٹھنڈ برقرار رہتی ہے۔‘‘ بزرگ شہری غلام حسن نے کہا، ’’گزشتہ برسوں میں نومبر میں ایسی ٹھنڈ کم ہی دیکھی گئی۔ یوں لگتا ہے چلہ کلاں نے وقت سے پہلے ہی دستک دے دی ہے۔‘‘

مزید سردی آئے گی؛ انڈین میٹ ڈیپارٹمنٹ

بھارت کے میٹ ڈیپارٹمنٹ (محکمہ موسمیات) نے آئندہ چند روز تک موسم خشک مگر نہایت سرد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آسمان صاف رہنے سے رات کے وقت زمینی سطح تیزی سے ٹھنڈی ہو رہی ہے، جس کے باعث رات کے درجہ حرارت میں مزید کمی ممکن ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ماہرین کے مطابق اس سال دسمبر اور چلہ کلاں معمول سے کہیں زیادہ سخت ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کے کشمیر میں کیاہوگا 

لائن آف کنترول نے کشمیر کو دو حصوں میں بانٹ رکھا ہے جن کا انتظام دو ریاستوں کے پاس ہے لیکن موسم پر لائن آف کنٹرول کا اطلاق نہیں ہوتا، موسم بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں اور پاکستان سے وابستہ آزاد کشمیر مین ایک جیسا ہی رہتا ہے۔ کچھ بالائی علاقے بھارت کے قبضہ میں ہیں اور ان کے نیچے والے علاقوں پر آزاد کشمیر حکومت کی عملداری ہے، ان سب علاقوں میں ٹمپریچر ایک دو ڈگری سیلسئیس کے فرق کے ساتھ ایک جیسا ہی رہتا ہے۔

پاکستان کا میٹ آفس آزاد کشمیر  اور ان سے اوپر گلگت بلتستان کے علاقوں میں سردی کی کوئی خاص فورکاسٹ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کر رہا۔