سٹی42: اسرائیلی حملے میں ایک عمارت میں جمع امداد لینے والے 18 افراد ہلاک ہو گئے جب کہ IDF نے حماس سے منسلک سہم یونٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
جمعرات کو ایک اسرائیلی حملہ وسطی غزہ کی ایک سڑک پر ہوا، جہاں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لوگوں کا ایک ہجوم حماس کے یونٹ سے آٹے کے تھیلے لے رہا تھا۔ حماس کی بنائی ہوئی خاص پولیس نے امدادی قافلوں کو لوٹنے والے گروہوں سے سامان ضبط کر لیا تھا اور پولیس کے اہلکار اسے نئے سرے سے خود تقسیم کر رہے تھے۔ ہسپتال کے حکام نے بتایا کہ اس شوٹنگ میں 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
جمعرات کو دیر البلاح کے مرکزی قصبے میں ہونے والی فائرنگ حماس سے منسلک سہم یونٹ کے ارکان کو نشانہ بنانے کے لیے دکھائی دیتی ہے، یہ حماس کا بنایا ہوا ایک سکیورٹی گروپ ہے جس کا کام لٹیروں کو روکنے اور چوری شدہ امداد اعلیٰ قیمتوں پر فروخت کرنے والے تاجروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا ہے۔ یہ یونٹ غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارت داخلہ کا حصہ ہے، لیکن اس میں دیگر دھڑوں کے ارکان بھی شامل ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ" سہم یونٹ لٹیروں اور بدعنوان تاجروں سے ضبط کیے گئے آٹے کے تھیلے اور دیگر سامان تقسیم کر رہا تھا"، جب یہاں سٹرائیک ہوئی تو ایک ہجوم پہلے سے جمع تھا۔
اس کے بعد سوشل میڈیا پر آنے والی ویڈیو میں گلیوں میں متعدد نوجوانوں کی لاشیں، کئی پھٹی ہوئی، فرش اور عمارتوں کی دیواروں پر خون کے چھینٹے دکھائے گئے۔ الاقصیٰ ہسپتال نے تصدیق کی کہ مرنے والوں میں ایک بچہ اور کم از کم سات' سہم کے ارکان' شامل ہیں،.
اسرائیلی فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ اسرائیل نے حماس پر دہشت گرد گروپ کی امداد چوری کرنے اور اس کا استعمال انکلیو میں اپنی حکمرانی کے لیے کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اسرائیلی فورسز نے بارہا غزہ کی پولیس کو حماس کی شاخ سمجھ کر اس پر حملہ کیا ہے۔