ویب ڈیسک: امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی مارکیٹ ویلیو پہلی بار مختصر وقت کے لیے 5 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی، جس کے بعد وہ اینویڈیا کے بعد یہ سنگِ میل عبور کرنے والی دنیا کی دوسری کمپنی بن گئی۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منگل کے روز کاروبار کے دوران ایپل کے شیئرز کی قیمت 342.89 ڈالر تک پہنچ گئی، جس سے کمپنی کی مجموعی مارکیٹ ویلیو تقریباً 5.036 ٹریلین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ تاہم بعد ازاں شیئرز میں معمولی کمی کے بعد مارکیٹ ویلیو 4.96 ٹریلین ڈالر پر آ گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایپل رواں ماہ دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی بن گئی تھی، جب اس نے چپ ساز کمپنی اینویڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا، جو جون 2025 سے اس مقام پر موجود تھی اور 5 ٹریلین ڈالر کی حد عبور کرنے والی پہلی کمپنی تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایپل کے شیئرز میں اضافے کی بڑی وجہ آئی فون اور دیگر مصنوعات کی مضبوط فروخت ہے، جبکہ کمپنی نے دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے برعکس مصنوعی ذہانت (AI) پر بھاری سرمایہ کاری سے گریز کیا ہے۔ ایپل نے اپنی نئی اے آئی سروسز کے لیے بڑی حد تک گوگل کی ٹیکنالوجی پر انحصار کیا، جس سے اسے مہنگے ڈیٹا سینٹرز اور انفراسٹرکچر پر اخراجات سے بچنے میں مدد ملی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ ایپل نے آئی فون کی قیمتیں برقرار رکھیں، اگرچہ میک بک اور آئی پیڈ کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد صارفین نے ممکنہ آئندہ قیمتوں میں اضافے سے پہلے بڑی تعداد میں آئی فون خریدے، جس سے فروخت میں اضافہ ہوا۔
ایپل نے امریکہ میں ادائیگیوں کی کمپنی کلارنا کے تعاون سے ایک نیا ڈیوائس لیزنگ پروگرام بھی متعارف کرایا ہے، جس کے تحت صارفین ماہانہ اقساط پر آئی فون، آئی پیڈ، ایپل واچ اور میک حاصل کر سکیں گے۔
رائٹرز کے مطابق ایپل کے شیئرز کی قیمت میں رواں سال اب تک 24 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جو امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے معروف گروپ "میگنیفیسنٹ 7" میں شامل دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر کارکردگی ہے۔
ایپل جمعرات کو اپنی تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج بھی جاری کرے گی، جہاں تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ کمپنی کی سہ ماہی آمدنی گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد سے زائد بڑھ سکتی ہے۔