سانحہ تیزگام کے حوالے سے بڑا انکشاف سامنے آ گیا


(سعید احمد سعید ) تیزگام حادثے کی انکوائری رپورٹ نے وزیر ریلوے شیخ رشید کے بیان کی نفی کر دی۔ اکتوبر میں ہونے والا حادثہ گیس سلنڈر پھٹنے سے نہیں بلکہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوا، ٹرین حادثے کی انکوائری رپورٹ میں حقائق سامنے آگئے۔

سابق فیڈرل گورنمنٹ انسپیکٹر آف ریلویز دوست علی لغاری کی جانب سے ٹرین حادثے کی انکوائری رپورٹ مرتب کر لی گئی ہے۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق ٹرین میں آگ کچن پورشن میں الیکٹریکل کیٹل کی ناقص وائرنگ میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی۔ 12 نمبر بوگی میں الیکٹرک سپلائی بوگی نمبر 11 سے غیر قانونی طریقے سے لی گئی تھی۔ تار میں ناقص جوڑ اور ہیٹ اپ ہونے کی وجہ سے شارٹ سرکٹ ہوا، شارٹ سرکٹ ہونے سے دروازے کے پاس پڑے مسافروں کے  سامان میں آگ لگی۔

انکوائری رپورٹ مین کہا گیا ہے کہ وائرنگ متاثر ہونے سے پوری بوگی میں شدید دھواں بڑھ گیا۔ آگ نے بوگی نمبر 12 کی تمام وائرنگ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جبکہ بوگی میں مسافروں کے سامان کے ساتھ گیس سلنڈر بھی موجود تھا۔ ٹرین میں آگ بجھانے والی آلات کی کمی کے باعث موقع پر قابو نہ پایا جا سکا۔

سانحہ تیزگام میں ڈپٹی ڈی ایس، کمرشل آفیسر، ایس ایچ او، ڈائننگ کار کے ٹھیکیدار، ویٹرز، ہیڈ کانسپٹیبل، کانسٹیبل، ریزرویشن اسٹاف ذمہ دار قرار دئیے گئے ہیں۔ ذمہ داروں میں ڈائننگ کار کے مینجر محمد آصف، ویٹر عبدالستار، افتخار احمد، ہیڈکانسٹیبل علی جان، محمد نسیم، کانسٹیبل محمد ارشد، جہانگیر حسین، ریزرویشن اسٹاف عامر حسین، ڈپٹی ڈی ایس کراچی جمشید عالم، ڈویژنل کمرشل آفیسر جنید اسلم، ریزرویشن کلرک محمد ندیم، کلیم انسپیکٹر قمر شاہ، ایس ایچ او حیدر آباد طارق علی لغاری اور ایس ایچ او خانپور امداد علی شامل ہیں۔

انکوائری رپورٹ میں لکھے گئے ذمہ داروں کو پہلے ہی عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے جبکہ ڈپٹی ڈی ایس کراچی جمشید عالم کو آج نوکری سے برخاست کیا گیا۔ سیکرٹری ریلوے حبیب الرحمن گیلانی نے انکوائری رپورٹ کی منظوری دے دی ہے۔ واضح رہے ٹرین حادثے میں 75 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔