زاہدچودھری:پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں آگ سے بچاؤ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات کے حوالے سے سنگین غفلت کا انکشاف ہوا ہے۔ بیشتر سرکاری ہسپتالوں میں نہ مناسب فائر فائٹنگ آلات موجود ہیں اور نہ ہی ہنگامی انخلا کا مؤثر نظام وضع کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں موجود اکا دکا فائر ایکسٹنگوئشرز بھی زائد المیعاد یا ناقص حالت میں پائے گئے ہیں، جبکہ کئی سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں فائر الارم تک نصب نہیں۔ ہنگامی صورتحال میں مریضوں اور عملے کے فوری انخلا کے لیے ایگزٹ روٹس کی بھی مناسب نشاندہی نہیں کی گئی۔
ہسپتالوں میں آگ لگنے کی صورت میں فوری طور پر پانی کی فراہمی کے لیے فائر ہائیڈرنٹس بھی دستیاب نہیں، جبکہ سموک ڈیٹیکٹرز بھی سرکاری ہسپتالوں سے تقریباً ناپید ہیں۔
ذرائع کے مطابق سوا دو سال قبل ساہیوال ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے المناک واقعے میں معصوم بچے جاں بحق ہوئے تھے، تاہم اس سانحے کے باوجود سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات بہتر نہ ہوسکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی افسر شاہی عملی اقدامات کے بجائے کاغذی کارروائی تک محدود ہے۔ سانحہ پمز کے بعد بھی محکمہ ہسپتالوں میں مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے بجائے صرف مراسلے جاری کرنے تک محدود دکھائی دیتا ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں سے سرکاری ہسپتالوں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات کے حوالے سے دعوے اور ہدایات تو سامنے آتی رہی ہیں، تاہم عملی طور پر صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آسکی۔