ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں لڑکی کی بازیابی کیس کی سماعت , لڑکی کا والدین و شوہر کے ساتھ جانے سے انکار، عدالت نے لڑکی خواہش پر اسے دارالامان بھجوادیا ، لڑکے بیان پر والدین احاطہ عدالت میں چیخ چیخ وپکار اور اہ بجا کرتے رہے.
لاہور ہائیکورٹ میں لڑکی کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں پولیس نے مغویہ لڑکی کو بازیاب کر کے عدالت کے روبرو پیش کر دیا۔ جسٹس طارق محمود باجوہ نے شہری ثناءاللہ کی جانب سے دائر درخواست پر کی۔ درخواست گزار نے اپنی بیٹی آمنہ بی بی کی بازیابی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی بیٹی کو مبینہ طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔سماعت کے دوران پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ لڑکی کو بازیاب کر لیا گیا ہے اور اسے عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران لڑکی نے بیان دیا کہ وہ اپنے والدین یا شوہر کے ساتھ جانے کے بجائے اپنی مرضی سے دارالامان جانا چاہتی ہے۔ لڑکی کے اس بیان کے بعد احاطہ عدالت میں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں والدین شدتِ غم سے چیخ و پکار کرتے رہے اور زارو قطار رو پڑے۔عدالت نے لڑکی کے بیان کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بالغ یا باشعور فرد کی مرضی کو قانون کے مطابق اہمیت حاصل ہے۔ بعد ازاں عدالت نے لڑکی کو دارالامان بھجوانے کا حکم دیتے ہوئے بازیابی کی درخواست نمٹا دی۔