دلشاد راؤ: سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہورکی مالی سال 2017-18 کے آڈٹ میں ہوشرباانکشافات کئے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی 57کروڑ82 لاکھ کی ادائیگیوں میں بےضابطگیاں کی گئی،محکمہ سکول ایجوکیشن نے 57کروڑسےزائدکی ادائیگیاں بغیرکسی آڈٹ کےہی کردیں،مالی سال 2017 اور 2018 میں مالی بدانتظامی عروج پرنظر آئی۔
قواعد کےمطابق ہرماہ کاخرچ آڈٹ کیلئےجمع کرانا لازم تھا جو نظر انداز کیا گیا،داخلی کنٹرول کی کمزوری و مالیاتی نظم و ضبط کی شدید خلاف ورزی پربھی رپورٹ ہوئی،آڈٹ حکام نےمالی ڈسپلن کی کمی کوادائیگیوں میں بےقاعدگی کی بڑی وجہ قراردیا،ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس تک منعقد نہیں کیاگیا،محکمہ کی جانب سےکارروائی کےبجائےبےضابطگیوں پرخاموشی چھا ئی رہی،انتظامیہ بار بار یاد دہانیوں کے باوجود اجلاس بلانے میں ناکام رہی۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی جائے اورادائیگیوں کوریگولرائزکیاجائے،آڈٹ حکام نےذمہ دارافرادکی نشاندہی اورانکےخلاف ایکشن لینےکی سفارش کردی،غیرقانونی ادائیگی کےباوجود22کروڑ39لاکھ کاسیلزٹیکس تک نہیں اداکیاگیا،2012کے تحت سروسز پر 16 فیصد ٹیکس کاٹنا لازم تھا، جو نہیں کاٹا گیا،حکومتی خزانےکوکروڑوں کانقصان سیلز ٹیکس کی عدم کٹوتی کے باعث پہنچایا گیا۔
ٹیکس کی کٹوتی نہ ہونے سے حکومتی محصولات میں شدید کمی واقع ہوئی۔