یوٹیلٹی سٹورز پر اشیائے ضروریہ کی قلت بدستور برقرار

 یوٹیلٹی سٹورز پر اشیائے ضروریہ کی قلت بدستور برقرار

شہزاد خان ابدالی: رمضان المبارک کا چوتھا روزہ بھی گزر گیا۔ مگر شہر کے یوٹیلٹی سٹورز پر اشیائے ضروریہ کی قلت دور نہ ہوسکی۔شہری کہتے ہیں یوٹیلٹی سٹورز پر لکژری آیئٹمز کی بھرمار ہے مگر بنیادی اشیائے ضروریہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتیں رپورٹ کررہے ہیں 

رمضان المبارک کا چوتھا روزہ بھی گزر گیا۔مگر تاحال یوٹیلٹی سٹورز پر اشیائے ضروریہ کی قلت دور نہ ہوسکی۔ دال ماش دھلی'دال ماش چھلکا'بیسن'ثابت ماش 'مینگو سکوائش سمیت دیگر اشیائے ضروریہ دستیاب ہی نہیں ہیں۔

شہریوں نے اشیائے ضروریہ کی عدم دستیابی پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا شہریوں کا کہنا تھا کہ یوٹیلٹی سٹورز پر لکژری آیئٹمز کی تو بھرمار ہے مگر اشیائے ضروریہ جن کی خریداری کی غرض سینکڑوں صارفین یوٹیلٹی سٹورز کا رخ کرتے ہیں'وہ چیزیں ناپید ہیں.

شہریوں کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان دالوں اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی کو یقینی بنائے ورنہ اربوں روپے کا دعوی صرف کاغذوں کی حد تک محدود ہوگا.

دوسری جانب ‍شہر میں ماہ صیام میں بھی مصنوعی مہنگائی کا طوفان تھم نہ سکا،سرکار کا جاری کردہ مہنگائی آرڈیننس بھی بے سود، مہنگائی مافیا بے لگام ہوگیا،لیموں کی قیمتوں میں مزید اضافہ ،لیموں کے نرخ چار سو روپے کلو سے بڑھ پانچ سو روپے ہو گئے.

گرانفروشی کے تدارک کےآرڈیننس کے باوجود دکانداروں اور ریڑھی بانوں نے سرکاری ریٹ لسٹوں کو آویزاں ہی نہیں کیا،ضلعی انتظامیہ اور مارکیٹ کمیٹی سرکاری ریٹ لسٹوں پر اشیاء کی فروخت میں ناکام رہے۔

شہر کی پرچون مارکیٹس میں سیب تین سوروپےکلو، کیلا ایک سو اسی فی درجن، خربوزہ ایک سو پچاس، پپیتا دو سو پچاس، کنو دو سو پچاس روپے فی درجن، تربوز ساٹھ روپے کلو ،امرود دو سو ،کھجور چھے سو روپے کلو، لوکاٹ دو سو روپے فی کلو میں فروخت کی جارہی ہے۔

آلو ساٹھ ، پیاز پچاس سے ساٹھ، ٹماٹر پینتالیس، توری ساٹھ ، شملہ مرچ ساٹھ روپے کلو، کریلے ساٹھ، کھیرا تیس روپے، کریلے ساٹھ ، گھیا چالیس روپے میں فروخت کیا جارہا۔

شہری مصنوعی مہنگائی پر بلبلا اٹھےجبکہ ستم ظریفی تویہ ہےکہ کسی بھی مارکیٹ میں سرکار کی رٹ نظر نہیں آتی۔