ویب ڈیسک: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ یہ احتجاجی کیمپ بھی ہے اور درحقیقت یہ ایک مطالبہ بھی ہے، ان احتجاجی کیمپوں پر عوام کی رائے جمع کی جائیں گی، اس وقت مہنگائی ہے اور جس میں عوام کا جینا محال ہوگیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مارکیٹ کے کیا حالات ہیں یہ تاجر اچھی طرح جانتے ہیں، بڑے مال اور بڑی مارکیٹوں میں سرکاری ملازمین کے بیوی اور بچے نظر آتے ہیں، عوام کا کیا حال ہے یہ لوگ نہیں جانتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت پیٹرول 400روپے تک پہنچ چکا ہے، جماعت اسلامی نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ عوام کی آواز بنے گی، ہماری سیاست اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں عوام کی بات ہوگی تو عوام ساتھ ہوگی، اس شہر کے لوگ تو اچھی طرح جانتے ہیں کہ کے الیکٹرک اس شہر کو کیسے کھا رہا تھا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کا معاملہ اُٹھایا اور بجلی کے مسائل حل ہوئے، اس کے علاؤہ ایک اور بلا اس ملک میں ناجائز طریقے سے پیسہ بنا رہی تھی، آئی پی پیز اس ملک کو کھا رہی تھی اور تمام سیاسی جماعتیں اس میں شامل تھی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کوئی آئی پی پیز کے حوالے سے نہیں بولتا تھا، جماعت اسلامی نے اس حوالے سے آواز بلند کی، آج بچہ بچہ جانتا ہے کہ آئی پی پیز کیا ہیں اور یہ کیسے لوٹ مار کرتے ہیں، اب جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف آواز اُٹھائی ہے،یہ لیوی ایک بھتہ ہے جو غیر قانونی طریقے سے عوام سے وصول کیا جارہا ہے۔