ویب ڈیسک: خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اہم شخصیت کے ساتھ ملاقات میں خیبر پختونخوا اسمبلی توڑنے کی بات کر دی۔ اس ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آنے سے ہلچل مچ گئی۔وزیر اعلیٰ کے پی نے پی ٹی آئی کے سینئیر رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ کو حقیقی صورتحال سے آگاہ کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ملاقات میں سہیل آفریدی نے سابق وزیر اعلیٰ کو خیبر پختونخوا اسمبلی کو توڑ دینے کے متعلق بھی گفتگو کی۔ اس اہم ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ سہیل آفریدی نے کہا کہ ’پارلیمانی پارٹی اجازت دے تو اسمبلی توڑ سکتا ہوں‘ ۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور میں ملاقات کی جو اندرونی کہانی سامنے آئی ہے اس کے مطابق ذرائع بتا رہے ہیں سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور میں پارٹی اور سیاسی معاملات پر تفصیل سے گفتگو ہوئی، وزیر اعلیٰ کے پی نے پی ٹی آئی کے سینئیر رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ کو حقیقی صورتحال سے آگاہ کیا۔دونوں کی گفتگو میں یہ بات سامنے آئی کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا عندیہ دے رہی ہے۔ لانگ مارچ کا نام نہ لینے کی صورت میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت بچ سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ آ سکتا ہے جس میں علی امین گنڈاپور وزیر اعلیٰ کے پی بن سکتے ہیں، علی امین گنڈاپور نے پارٹی مفادات کو حکومت پر ترجیح دینے کا عندیہ دیا، حالات بند گلی میں گئے تو پارلیمانی پارٹی کی اجازت سے اسمبلی توڑنے پر غور ہو سکتا ہے۔ملاقات میں سہیل آفریدی نےکہا کہ پارلیمانی پارٹی اجازت دے تو اسمبلی توڑ سکتا ہوں۔دونوں رہنما میں بانی پی ٹی آئی سے اسمبلی توڑنے کے معاملے پر مشاورت نہ کرنے کی بات بھی ہوئی، عمران خان نے وزیر اعلیٰ کے پی کے خلاف سخت ناراضی کا اظہار کیا اور پارٹی کے اہم عہدیداروں پر بھی نام لے کر سخت تنقید کی۔ذرائع کے مطابق عمران خان کی ناراضی کا اظہار بشریٰ بی بی، ایک سینیٹر اور بہنوں کی موجودگی میں ہوا، سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کی ملاقات میں بانی پی ٹی آئی کی ناراضی کا بھی ذکر ہوا۔