ویب ڈیسک : وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ہفتے میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی، کہا ہے کہ ریلیف و بحالی کی کارروائیاں مزید تیز کی جائیں۔
وزیراعظم کی زیرصدارت سیلابی صورتحال اور متاثرین کی بحالی کے اقدامات پر اہم اجلاس ہوا، جس میں چاروں صوبوں،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکرٹریز نے شرکت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف ویڈیو لنک پر شریک ہوئے۔
اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے متاثرہ علاقوں کی صورتحال اور بحالی کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی، بتایا کہ تقریباً ساڑھے تین لاکھ متاثرہ افراد امدادی کیمپس سے واپس گھروں کو جا چکے ہیں جبکہ سندھ کے چند کیمپس میں اب بھی لوگ مقیم ہیں۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ سیلابی پانی تیزی سے اتر رہا ہے جس کے عد باقی افراد بھی اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے،متاثرین کو راشن اوردیگر امداد کی فراہمی جاری ہے جبکہ حکومت پنجاب بحالی کے لیے مثالی اقدامات کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں فصلوں کے نقصانات اور کسانوں کی بحالی کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کی گئیں۔
وزیر اعظم نےایک ہفتے میں نقصانات کےجائزے پر جامع رپورٹ پیش کرنےکی ہدایت کی اور کہاکہ ریلیف و بحالی کی کارروائیاں مزید تیزکی جائیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔وزیر اعظم نے وزیرمنصوبہ بندی کو امداد و بحالی پر باقاعدگی سے جائزہ اجلاس بلانے اورچیئرمین این ڈی ایم اے کو صوبوں اور پی ڈی ایم ایز کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے ایم فائیو کےمتاثرہ حصے کی بحالی کے لیے این ایچ اے کو اقدامات تیز کرنے اور جلال پور پیر والا کے مقام پر موٹروے کے شگاف کی فوری مرمت کرنے کا بھی حکم دے دیا،کہا سیلاب متاثرہ علاقوں میں پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔