سٹی 42 : چیئرمین ایف بی آر نے 30ستمبر تک صرافہ بازاروں میں چھاپے نہ مارنے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ 30 ستمبر کے بعد سخت ایکشن لیا جائے گا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین سے صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے صدر قاسم شکارپوری نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی، جس میں جیولرز کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر قاسم شکارپوری نے بتایا کہ جیولرز کے مسائل حل کرنے کے لیے 4 رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جبکہ چیئرمین ایف بی آر نے ہدایت کی ہے کہ 30 ستمبر تک صرافہ بازاروں میں کوئی چھاپہ نہیں مارا جائے گا۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ایف بی آر کے پاس ملک بھر کے 35 ہزار جیولرز کا ڈیٹا موجود ہے، جن میں سے 14 ہزار جیولرز نے ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کرائے، جبکہ 6 ہزار سے زائد جیولرز نے اپنی آمدنی صفر ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریٹرن جمع کرانے والے 15 ہزار جیولرز نے حقائق کے برعکس آمدنی ظاہر کی ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق 30 ستمبر کے بعد جو جیولرز درست گوشوارے اور ٹیکس جمع نہیں کرائیں گے، ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ چیئرمین ایف بی آر نے مزید بتایا کہ جیولرز کو A، B، C اور D کیٹیگریز میں تقسیم کر دیا گیا ہے، A کیٹیگری والے جیولرز کی دکانوں پر گرین پلیٹ لگائی جائے گی، B کیٹیگری والے جیولرز کی دکانوں پر یلو پلیٹ لگائی جائے گی جبکہ C اور D کیٹیگری سے متعلق فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔