سٹی 42 : نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یومِ سیاہ کشمیر کے اس موقع پر ہم 27 اکتوبر 1947 کے ان سیاہ واقعات کو یاد کرتے ہیں، کشمیری عوام کی حالتِ زار صرف توجہ ہی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی بھی مستحق ہے۔
نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے یومِ سیاہ کشمیرکے موقع پر ویڈیو پیغام میں کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی افواج نے سری نگر میں داخل ہو کر ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل نے اپنی کئی تاریخی قراردادوں میں واضح طور پر اس بات کی توثیق کی کہ جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا، بھارت نے اقوام متحدہ کی ان تمام قراردادوں کو کھلے عام نظرانداز کیا۔
پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی قانونی حثیت اور مرکزیت کو تسلیم کیا، ہم نے خطے کے اس دیرینہ تنازعے کا منصفانہ اور پائیدار حل یقینی بنانے کے لئے مسلسل عالمی برادری کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کی 5 اگست 2019 کی غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائیوں کے نتیجے میں غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی المیہ مزید سنگین ہو گیا۔ خصوصی حیثیت کے خاتمے، سخت گیر قوانین کے نفاذ، غیر مقامی افراد کو بڑی تعداد میں ڈومیسائل جاری کر کے آبادیاتی تناسب میں تبدیلی، اور کشمیری قیادت کی بلاجواز گرفتاری، بھارتی تسلط کے نمایاں پہلو بن چکے ہیں۔ اس جبر و ستم کے باوجود، بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام نے غیر معمولی ہمت، استقامت، عزت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا، ان کی جدوجہد آج بھی اسی جذبے سے جاری ہے، یہ ہمیں ان کے حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے اُن کے پختہ عزم کی یاد دلاتی ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ حال ہی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ بھارت کا مسئلہ کشمیر پر ہٹ دھرمی پر مبنی رویہ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آج یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے مصائب کے خاتمے کے لیے اپنا مؤثر اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی حالتِ زار صرف توجہ ہی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی بھی مستحق ہے۔ پاکستان ایک بار پھر کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کے لیے اپنی غیر متزلزل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ پاکستان ہر بین الاقوامی فورم پر کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے حصول تک اُن کی آواز بلند کرتا رہے گا۔ ان شاء اللہ