ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

خطبہِ حج 5 مئی کو، سعودی حکومت نے مناسکِ حج کا اعلان کر دیا

 خطبہِ حج 5 مئی کو، سعودی حکومت نے مناسکِ حج کا اعلان کر دیا

سٹی42:  سعودی عرب کی حکومت نے اعلان کر دیا ہے کہ آج ذی الحج کی یکم تاریخ ہے۔ اس کے ساتھ ہی حج بیت اللہ کی عبادات کا شیڈول بھی  طے ہو گیا ہے۔  دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان حج 2025 کی تیاری کر رہے ہیں، جو مکہ کی سالانہ اسلامی زیارت اور دین اسلام میں سب سے اہم روحانی سفر ہے۔ لاکھوں مسلمان پہلے ہی حجاز مقدس پہنچ چکے ہیں، لاکھوں روزانہ وہاں پہنچنے کے لئے سفر کر رہے ہیں۔

سعودی عرب کی  چاند دیکھنے والی کمیٹی کی جانب سے تصدیق کے بعد سعودی عرب نے آج ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کا اعلان کیا، جس سے ذی الحجہ کا آغاز ہوا، جو کہ دو بڑے اسلامی واقعات کی نشاندہی کرتا ہے: عید الاضحی اور بیت اللہ کا حج۔ 

سعودی عرب میں مسلمان 6 جون کو عید الاضحیٰ منائیں گے، جیسا کہ سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے اعلان کیا ہے۔عمان اور کئی دوسرے جی سی سی ممالک نے بھی 6 جون کو عید الاضحیٰ کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔

اس اعلان کے ساتھ ہی یوم عرفات، جو مسلمانوں کے لیے ایک اہم دن ہے، 5 جون کو ہونا طے پا گیا ہے۔ یہ ذی الحجہ کے نویں دن کے مساوی ہے، اس روز عرفات کے میدان مین حج بیت اللہ کا خطبہ دیا جائے گا۔ اس خطبہ کے دوسرے روز  عید الاضحی ہو گی جو  اسلامی کیلنڈر کے بارہویں اور آخری مہینے کی دسویں تاریخ کو آتی ہے۔

حج اسلام کے پانچ ضروری ستونوں میں سے ایک ہے، جس میں سالانہ لاکھوں مسلمان جمع ہوتے ہیں۔



بین الاقوامی سطح پر، عید الاضحی کو "قربانی کی عید" کے طور پر جانا جاتا ہے، جو کہ حضرت ابراہیم کی اپنے بیٹے کو خدا کی فرمانبرداری میں قربان کرنے کی رضامندی کی یاد میں کی جاتی ہے۔

ہر سال، مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کے  اس عمل کی یاد میں خدائی حکم کے لیے خالص اور بے لوث عقیدت بھیڑ، بکری، اونٹ یا گائے کی قربانی کرتے ہیں۔ اس اہم موقع پر صبح کے وقت بڑی مساجد اور اسلامی مراکز میں عید کی نماز ہوتی ہے اور  علاقہ بھر کے تمام بالغ و نابالغ مسلمان مرد و خواتین اس اجتماع میں شریک ہوتے ہیں۔


پاکستان میں، تہوار صبح کی نماز کے ساتھ شروع ہوتا ہے، اس کے بعد  گھروں کو واپس جا کر اجتماعی ناشتہ کیا جاتا ہے۔ اس کے فوراً بعد، جشن عید وقف مویشیوں کی قربانی کے ساتھ جاری رہتا ہے۔

پاکستان کے برعکس سعودی عرب میں ذی الحج کا چاند نظر آتے  ہی حج بیت اللہ کی عبادات شروع ہو جاتی ہیں اور ماحول یکسر بدل جاتا ہے، وہاں نو دن تک حج کی عبادات کے بعد دسویں روز جو عید الاضحیٰ کے اجتماعات ہوتے ہیں وہ دس روزہ مصروفیات کا عملاً اختتام ہوت جو پھر تین دن جانوروں کی قربانی کی مصروفیت کے ساتھ  جاری رہتا ہے۔ ا ہے جبکہ ہمارے ہاں مصروفیات شروع ہی اس عید کے روز سے ہوتی ہیں۔

حج  بیت اللہ اسلام کا ایک ستون
بیت اللہ شریف کا حج اسلام کے 'پانچ ستونوں' میں سے ایک ہے، جو تمام جسمانی اور مالی طور پر استطاعت رکھنے والے مسلمانوں پر ان کی زندگی میں کم از کم ایک بار فرض ہے۔

حج بیت اللہ اسلامی کیلنڈر کے آخری بارہویں مہینے ذی الحجہ کے دوران ہوتا ہے، اور اس میں پانچ سے چھ دنوں میں ادا کی جانے والی طے شدہ تاریخی عبادات و رسومات کا ایک سلسلہ شامل ہوتا ہے۔

حج کے مناسک کیا ہیں؟ سالانہ حج کے لیے قدم بہ قدم گائیڈ
حج کئی اہم رسومات پر مشتمل ہے:

احرام:

 حجاج روحانی پاکیزگی کی حالت میں مقدس شہر ملہ مکرمہ میں  داخل ہو کر حج کی عبادات  شروع کرتے ہیں، روحانی پاکیزگی کے ساتھ جسمانی پاکیزگی کو بھی لازمی تصور کیا جاتا ہے، اس کے لئے حج کے عازم دنیا کا عام لباس ترک کر دیتے ہیں اور تقریباً ان سِلا سفید لباس اوڑھ لیتے ہیں جسے احرام کہتے ہیں۔ اس میں سادہ، سفید لباس کا  پہننا اور بعض پہلے جائز تصور کئے جانے والے  کاموں سے پرہیز کرنا جیسے بال یا ناخن کاٹنا، بحث کرنا اور جنسی عمل میں مشغول ہونا حج کی عبادات کے آغاز سے پہلے عازم پر ممنوع ہو جاتا ہے اور حج کی عبادات کے اختتام تک وہ ان ممنوعات سے دور رہتے ہیں۔

طواف اور سعی:

حجاج کعبہ (طواف) کے گرد سات چکر لگاتے ہیں، یہ چکر روایت کے مطابق اینٹی کلاک وائز لگائے جاتے ہیں اور بیت اللہ شریف کے حرم میں کسی بھی فاصلہ سے سات چکر لگانے سے یہ عبادت ادا ہو جاتی ہے۔ حاجی جسمانی ضرورت کے مطابق طواف کے ددوران ٹھہر کر توقف کر سکتے ہیں۔

 اس طواف سے حج بیت اللہ کی عبادات کا آغاز ہوتا ہے۔ طواف  کے بعد صفا اور مروہ   کی پہاڑیوں کے درمیان طے شدہ راستہ پر  سات بار چلتے ہیں۔ اس عمل کو سعی کہا جاتا ہے۔ 

منیٰ میں قیام

 طواف اور عی کے بعد حجاج یکساں اہمیت کی حامل تیسری عبادت کرنے کے لئے شہر مکہ کے  باہر  منیٰ کا سفر کرتے ہیں اور رات عبادت اور غور و فکر میں گزارتے ہیں۔ منٰ میں حاجیوں کی آمد کے وقت خیموں کا ایک شہر آباد کیا جاتا ہے۔ خیموں میں قیام عبادت کا حصہ نہیں یہ محض حاجیوں کو  خصوصاً خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو حتی المقدور سہولت فراہم کرنے کے لئے اہتمام کیا جاتا ہے۔ منیٰ میں شب گزارنا حج کی ضروری عبادت ہے۔ اس رات کے دوران تمام حاجی عبادات کرتے ہیں جو نوافل، ان کی پسندیدہ تسبیحات، آیاتِ قران کی تلاوت پر مشتمل ہوتی ہیں۔

14 جون 2024 کو مقدس شہر مکہ کے قریب سالانہ حج کے دوران مسلمان حجاج منیٰ کے خیمہ کیمپ میں پہنچ رہے ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

عرفات میں وقوف:

 عرفات کا دن، جو کہ نویں ذی الحجہ کو آتا ہے، نہ صرف حج کا بلکہ پورے اسلامی کیلنڈر کا ایک اہم ترین دن سمجھا جاتا ہے۔ اس عرفات کے میدان کی حج کی عبادات میں مرکزی حیثیت ہے۔  رسولِ اُمی محمد ﷺ نے  اپنی حیاتِ فانی میں جو واحد حج ادا کیا تھا، اس  میں واحد خطبہ اسی میدانِ عرفات میں دیا تھا۔ اب تمام مسلمان اس میدان میں ہر سال 9 ذی الحج کو جمع ہو کر وقت کے امامِ حج سے خطبہ سنتے ہیں، جسے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تمام دنیا مین لائیو نشر کیا جاتا ہے اور تمام اہلِ اسلام مقرر وقت پر اس خطبہ کو اپنے کانوں سے براہَ راست سن سکتے ہیں۔

15 جون 2024 کو حج کے اختتام کے دوران مسلمان عازمین سعودی عرب کے کوہ عرفات پر، جسے جبل الرحمہ یا رحمت کا پہاڑ بھی کہا جاتا ہے، پر فجر کی نماز ادا کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

منیٰ سے 15 کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد، حجاج کرام جبل عرفات، جسے جبل الرحمہ - یا رحمت کے پہاڑ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے - پر دن کو عبادت میں گزارتے ہیں جسے وقوف کہا جاتا ہے۔

اس جگہ کو خاص طور پر اس جگہ کی حیثیت سے متبرل مقام مانا جاتا ہے جہاں پیغمبرِ آخر الزماں  محمد  رسول اللہ ﷺ نے اپنے واحد ضھ کا خطبہ دیا تھا۔ اتفاق سے اس خطبہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کی زندگی مختصر ثابت ہوئی اور انہیں تمام مسلمانوں سے بیک وقت خطاب کرنے کا کوئی دوسرا موقع نہیں ملا، اس لئے اسے جنابِ محمد ﷺ کا آخری خطبہ بھی کہا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں بہت سے مسلمان  اس دن روزہ رکھنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس روزہ کو نفلی عبادت شمار کیا جاتا ہے۔

مزدلفہ:

عرفات میں  غروب آفتاب کے بعد حجاج کرام پھر مزدلفہ روانہ ہوتے ہیں، جہاں وہ اگلے دن کی عبادت کے لیے قدیم روایت کے مطابق عمل کرتے ہوئے  کنکریاں جمع کرتے ہیں اور  یہ رات کھلے آسمان تلے  نفل نمایزں، تسبیحیں، مناجات اور قران کی  مقدس آیات کا ورد کرتے ہوئے گزارتے ہیں۔

رمی الجمارات:

منیٰ  پہنچنے کے بعد، حاجی مرد و خواتین  شیطان کی علامت تین ستونوں پر کنکریاں مارتے  ہیں۔ اس عمل کو حضور محمد ﷺ کے جدِ امجد  حضرت ابراہیم  علیہ السلام  کے عین اس ہی جگہ پر شیطان کے فتنہ کو مسترد کرنے کی یاد میں دہرایا جاتا ہے۔

16 جون 2024 کو سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ کے قریب منیٰ میں حج کے ایک حصے کے طور پر مسلمان حجاج کرام 'شیطان کو سنگسار کرنے' کی علامتی رسم ادا کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)


جانوروں کی قربانی: حجاج ایک بھیڑ کے بچے کو ذبح کرنے کی رسم میں حصہ لیتے ہیں، جو حضرت ابراہیم کی اپنے بیٹے کو قربان کرنے کی رضامندی کی عکاسی کرتا ہے۔

طواف الافادہ: حجاج کعبہ کا ایک اور طواف کرنے کے لیے مکہ واپس آتے ہیں، جو کہ ایک گہرے طہارت کی علامت ہے۔

الوداعی طواف: مکہ سے روانگی سے پہلے حجاج کرام ایک آخری طواف کرتے ہیں، اپنے حج کے اختتام کو نشان زد کرتے ہیں۔